بقیہ صفحہ ۲۵۰:کی طرف سے ہے سو کامل اور عمیق تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ زبان عربی ہے۔ اگرچہ بہت سے
لوگوں نے ان باتوں کی تحقیقات میں اپنی عمریں گذاریں ہیں اور بہت کوشش کی ہے جو اس بات کا پتہ لگاویں کہ جو اُمّ الاَلسنہ کون سی زبان ہے مگر چونکہ ان کی کوششیں خط مستقیم پر نہیں تھیں اور
نیز خدا تعالیٰ سے توفیق یافتہ نہ تھے اس لئے وہ کامیاب نہ ہو سکے اور یہ بھی وجہ تھی کہ عربی زبان کی طرف ان کی پوری توجہ نہیں تھی بلکہ ایک بخل تھا لہٰذا وہ حقیقت شناسی سے محروم رہ
گئے اب ہمیں خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُمّ الالسنہ جس کے لئے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی والوں نے اپنی جگہ اور آریہ
قوم نے اپنی جگہ دعوے کئے کہ انہیں کی وہ زبان ہے وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعوے دار غلطی پر اور خطا پر ہیں۔ اگرچہ ہم نے اس رائے کو سرسری طور پر ظاہر نہیں کیا بلکہ اپنی جگہ
پر پوری تحقیقات کر لی ہے اور ہزارہا الفاظ سنسکرت وغیرہ کا مقابلہ کر کے اور ہریک لغت کے ماہروں کی کتابوں کو سن کر اور خوب عمیق نظر ڈال کر اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ زبان عربی کے
سامنے سنسکرت وغیرہ زبانوں میں کچھ بھی خوبی نہیں پائی جاتی بلکہ عربی کے الفاظ کے مقابل پر ان زبانوں کے الفاظ لنگڑوں۔ لولوں۔ اندھوں۔ بہروں۔ مبروصوں۔ مجذوموں کے مشابہ ہیں جو فطری
نظام کو بکلی کھو بیٹھے ہیں اور کافی ذخیرہ مفردات کا جو کامل زبان کے لئے شرط ضروری ہے اپنے ساتھ نہیں رکھتے لیکن اگر ہم کسی آریہ صاحب یا کسی پادری صاحب کی رائے میں غلطی پر ہیں
اور ہماری یہ تحقیقات ان کی رائے میں اس وجہ سے صحیح نہیں ہے کہ ہم ان
زبانوں سے ناواقف ہیں تو اول ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ جس طرز سے ہم نے