آیت ۱ اور آیت ۲ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صحابی سے بجز مار دینے کے کوئی اور معنے ثابت کرنے
چاہیں تو ان کے لئے ہرگز ممکن نہیں۔ اگرچہ اس غم میں مر جائیں۔ اسی وجہ سے امام ابن حزم اور امام مالک اور امام بخاری اور دوسرے بڑے بڑے اکابر کا یہی مذہب ہے کہ درحقیقت حضرت عیسیٰ
فوت ہوچکے ہیں۔ افسوس کہ جاہل مولویوں نے ناحق شور مچایا اور آخر حضرت عیسیٰ کی موت ثابت ہی ہوئی جس کے ثبوت سے وہ ایسے نادم ہوئے کہ بس مرگئے۔ وحی اللہ پر کم توجہ رکھنے سے
یہ تمام مصیبتیں ان پر پڑیں۔ مولویوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے سو۱۶لہ برس پہلے الہام مندرجہ براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا ہے کیا انسان اتنا لمبا منصوبہ کر
سکتا ہے کہ جو افترا سو۱۶لہ برس کے بعد کرنا تھا اس کی تمہید اتنی مدت پہلے ہی جما دی اور خدا نے بھی اس قدر لمبی مہلت دے دی جس کی دنیا میں جب سے دنیا شروع ہوئی کوئی نظیر نہیں پائی
جاتی۔ والسّلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔
وحی حق پُر از اشارات خداست
گر نفہمد جاہلے کج دل رواست
چشمۂ فیض است وحی ایزدی
لیکن آن فہمد کہ باشد مہتدی
وحی قرآن رازہا دارد
بسے
نسبتے باید کہ تا فہمد کسے
واجب آمد نسبت اندر دین نخست
کار بے نسبت نمے آید درست
آن سعیدے کش ابوبکر است نام
نسبتے مے داشت با خیرالانام
زیں نشد محتاج تفتیش
دراز
جان او بشناخت روئے پاک باز
ہست فرقے در نظرہا اے سعید!
آنچہ ہارون دید آن قاروں ندید
بودہارون پاک و ایں کِرمے پلید
کے بماند با یزیدے بایزید