اس پر غالب ہوگئے اور ان کی حجت کو توڑ نہ سکا اور ظاہر نص کو چھوڑ کر کیوں ایک تاویل سے جہان کو تباہی اور فتنہ میں
ڈال دیا تاکہ کسی طرح مسیح موعود بن جائے جس شخص کے ہاتھ میں زندہ کرنا ہو بلکہ اس کا معجزہ ہی احیاء موتٰیہو اس پر کیا مشکل تھا کہ فی الفور ایلیا نبی کو زندہ کر کے یا آسمان سے اتار کر
یہودیوں پر ظاہر الفاظ نص کے موافق اپنی حجت پوری کر دیتا۔ مگر ایسے اعتراض وہی کرے گا جو اپنی جہالت سے دنیا میں دوبارہ مردوں کے آنے کا قائل ہوگا۔
ہمارے اس وقت کے نام کے مولوی
جو رجمًابالغیب کہتے ہیں جو شاید ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا قصّہ محرف ہو یہ سراسر ان کی خیانت ہے۔ جس قصّہ کی حضرت عیسیٰ نے تصدیق کی۔ اور تمام یہودیوں کا اس پر اتفاق ہے وہ کیونکر
محرف ہوسکتا ہے اور پھر بطریق تنزل ہم کہتے ہیں کہ اللہ اور رسول نے اس کی تحریف کی ہم کو خبر نہیں دی۔ لہٰذا ہم بموجب حدیث صحیح کے تکذیب کرنے کے مجاز نہیں ہیں اگر لَا تُصَدِّقُوْا پر نظر
ہے تو لَا تُکَذِّبُوْا بھی ساتھ یاد رکھو۔ لیکن اس قصہ میں تو ہمارے مولویوں کو یہ دھڑکہ شروع ہوا۔ کہ اگر حضرت عیسیٰ کی اس تاویل کو تسلیم کر لیں اور قصہ کو صحیح سمجھیں تو پھر حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے بھی ہاتھ دھو لینا چاہئے۔ جب ایک مرتبہ فیصلہ ہوچکا تو وہی مقدمہ پھر اٹھانا یہودی بن جانا ہے۔ مومن وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے حال سے عبرت پکڑے۔ اگر نزول کا
لفظ احادیث میں موجود ہے تو موت عیسیٰ کے الفاظؔ قرآن اور حدیث دونوں میں موجود ہیں اور توفّیکے معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے بجز مار دینے کے اور ثابت نہیں ہوئے۔
پس جب اصل مسئلہ کی حقیقت یہ کھلی تو نزول اس کی فرع ہے اس کے وہی معنے کرنے چاہئیں جو اصل کے مطابق ہوں۔ اگر تمام دنیا کے مولوی متفق ہو کر