اٹھایا۔ کوئی ذلیل اور خوار ہوا اور کوئی ہزار *** کا نشانہ بنا اور کوئی خوف اور دیوانگی اور سراسیمگی میں مبتلا ہوا اور نہ
مردوں میں رہا اور نہ زندوں میں اور ایک بھی ہاویہ سے بچ نہ سکا۔ پس افسوس ہے کہ جن لوگوں کو مسٹر عبد اللہ آتھم کیؔ زندگی سے خوشی ہوئی وہ کیسے بے وقوف ہیں۔ انہوں نے کہاں سے اور
کس سے سن لیا کہ الہامی عبارت نے صرف عبد اللہ آتھم کے مرنے کی ہی خبر دی تھی اور کوئی شرط نہ تھی اور صرف موت پر ہی حصر تھا دوسری کوئی بھی بات نہیں تھی۔ یہ بخل اور تعصب اور
شتاب کاری کی سزا ہے جو اب ہمارے مخالفوں کو ان جھوٹی خوشیوں کی ایسی ندامت اٹھانی پڑے گی جو مرنے سے بدتر ہے۔
اے حضرات الہام میں تو موت کا ذکر بھی نہیں ہاں ہماری تشریحی
عبارت میں ہاویہ کے لفظ سے ؔ جو ہم نے عبد اللہ آتھم کی نسبت سمجھا ضرور موت کا لفظ موجود ہے۔ مگر الہام میں یہ شرط بھی تو تھی کہ اس حالت میں ہاویہ میں گرے گا کہ جب حق کی طرف
رجوع نہ کرے۔ خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کر دیا کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا۔ اور وہ ڈرا اور اسلامی عظمت اس کے دل میں سما گئی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت قدیم کے موافق عذاب
موت اس سے بے باکی کے دنوں تک اٹھا لیا کیا کبھی قرآن کریم آپ لوگوں نے غور سے پڑھایا کھانے پینے پر ہی کمر باندھ رکھی ہے۔ کیا یاد نہیں کہ کئی مقام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ڈرنے والوں پر
دنیوی عذاب نازل نہیں ہوتا۔ دنیوی عذاب کے لئے صرف کفر ہی کافی نہیں۔ بلکہ شوخی شرارت تکبر استعلاء اور مومنوں کو آزار دینا اور حد سے بڑھنا ضروری ہے۔ لیکن عبد اللہ آتھم نے ان پندرہ
مہینوں میں کوئی شوخی اور تکبر
نے وہ تمام عربی کتا بیں ان پندرہ مہینوں میں تالیف کیں جن کے ساتھ عیسائیوں کے لئے پانچ ہزار روپیہ کا انعام تھا اور جن کے مقابل پر اگر تمام پادری کوشش
کرتے کرتے مر بھی جائیں تب بھی ان کی نظیر نہیں بنا سکتے۔ اے ؔ عدوّ اللہ جھوٹ اور افترا سے باز آجا۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ ان پندرہ مہینوں میں کیا کیا عجیب عربی کتابیں میری طرف سے
نکلیں اور اس تھوڑے عرصہ میں دس کے قریب تائید اسلام میں میں نے کتابیں لکھیں جو شائع بھی ہوگئیں کیا یہ بیمار کا کام ہے کرامات الصادقین کس زمانہ میں لکھی گئی۔ سرالخلافہکب تالیف ہوئی
نورالحق کی دونوں جلدیں کس نے اور کب بنائیں۔ تحفہ بغداد کب شائع ہوا کیا یہ کتابیں وہی کتابیں نہیں ہیں جو اس پندرہ مہینہ میعاد پیشگوئی کے اندر لکھی گئیں اگر کوئی مولوی مخالف و مکفر بٹالوی
وغیرہ پندرہ برسوں میں بھی ایسی کتابیں بنا کر دکھلاوے تو ہم مان لیں گے کہ ہم اس پندرہ مہینہ میں بیمار رہے ورنہ اب تو بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین ۔
منہ