نہیں دکھلایا۔ اسلام کی کوئی توہین نہیں کی۔ اور کوئی تحقیر اور استہزا کا رسالہ نہیں نکالا بلکہ اپنی مصیبت میں پڑا رہا اور اپنے افعال سے دکھا دیا کہ وہ سخت ڈرا اور اسلامی عظمت ایک چمکتی ہوئی تلوار کی طرح اس کو نظر آئی۔ اس لئے حق کی طرف رجوع کرنے کی جو شرط تھی۔ اس نے اس سے اس قدر حصہ لیا جس نے اس کامل عذاب میں تاخیر ڈال دی اور یہ تو ظاہر کے خیال سے ہے اور جس قدر اس نے اپنی اندرونی حالت درست کی ہوگی اور تضرع کیا ہوگا ۔۱؂ کا مصداق بنا ہوگا۔ یہ علم اس کو ہے یا خداتعالیٰ کو وہ خدائے رحیم و کریم کسی کا ایک ذرہ عمل بھی ضائع نہیں کرتا اور جب کہ موت سے بچنے کیلئے عبد اللہ آتھم کیلئے یہ ایک راہ موجود تھی اور اس کی پُر خوف حالتیں جن حالتوں میں اس نے یہ زمانہ گذارا صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ اس نے کسی قدر اس راہ کی طرف قدم رکھا۔ اگرچہ وہ قدم کامل ہو یا ناقص اس کا علم اس کو ہوگا۔ تو پھر کیوں وہ اس قدم کے رکھنےؔ سے اور کسی قدر اصلاح سے فائدہ نہ اٹھاتا اور خواہ وہ رجوع ایک ذرہ کے موافق تھا۔ لیکن تب بھی اس کا کم سے کم یہ فائدہ ہونا چاہیئے تھا کہ موت کے عذاب میں تاخیر ڈال دے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۲؂ ۔ سو اس نے حسب سنت اللہ اور شرط الہام کے اس رجوع کا فائدہ دیکھ لیا اب الہام کا کیا قصور ہے کیا الہام میں یہ نہیں لکھا تھا کہ ہاویہ میں گرے گا لیکن بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے یہ بھی یاد رہے کہ رجوع ایک فعل قلب ہے خلق اللہ کی اطلاع اس میں ضروری نہیں۔ ہاں اس کی حالت شوریدہ پر نظر ڈالنے والے حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں الغرض خداتعالیٰ نے اس کو ہم و غم میں پایا اور اس کو رجوع میں داخل سمجھ کر شرط قرار دادہ کو پورا کیا اور یہ بات تمام انبیاء کے اتفاق سے مسلم ہے کہ ڈرنے والے پر عذاب دنیا نازل نہیں ہوتا بلکہ بے باک اور حد سے بڑھنے والے پر ہوتا ہے اور ہم نے تو تمام کتابیں دیکھیں اور قرآن کریم کو اول سے آخر تک پڑھا۔ مگر یہ واقعہ کسی کتاب میں نہ دیکھا کہ کبھی کسی ڈرنے والے کافر پر پتھر برسے یا کسی ہراساں اور ترسان منکر پر اس کے انکار کی وجہ سے بجلی پڑی بلکہ کفر کی سزا کے لئے دوسرا گھر موجود ہے اس دنیا میں تو شوخوں اور منکر وں اور موذیوں اور ظالموں پر جب وہ حد سے بڑھ جاتے ہیں عذاب نازل ہوتا ہے اب آنکھیں کھول کر سوچنا چاہیئے کہ باوجود اس سنت قدیمہ اور موجودگی شرط کے کیوں عبداللہ آتھم پر عذاب موت نازل ہو ہاں اگر یہ دعویٰ کرو کہ عبد اللہ آتھم نے ایک ذرہ حق کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ ڈرا تو اس وہم کی بیخ کنی کے لئے یہ سیدھا اور صاف معیار ہے کہ ہم عبد اللہ آتھم کو دو ہزار روپیہ نقد دیتے ہیں۔ وہ تین مرتبہ قسم کھا کر یہ اقرار کر دے کہ میں نے ایک ذرہ بھی اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا اور نہ اسلامی پیشگوئی کی عظمت میرے دل میں سمائی