میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور دوسرے غزنوی صاحبوں کی
جھوٹی خوشی اور ان کو للّٰہ نصیحت اور ان کے مباہلہ کا
آخری نتیجہ
ہم نے سنا ہے کہ میاں عبد الحق اور میاں عبد الجبار اور ان کے گروہ کے آدمی اس بات پر اپنے جوش تعصب اور قلت تدبر کی وجہ سے بہت ہی خوش ہو رہے ہیں کہ عبد اللہ آتھم پندرہ
مہینہ میں نہیں مرا اور وہ زندہ امرتسر میں آگیا۔ اور ان لوگوں نے عبد اللہ آتھم کی زندگی پر نہ صرف خوشی ہی کی بلکہ انہوں نے اس کو میاں عبد الحق کے مباہلہ کا ایک اثر تصور کیا گویا ان خوش
فہموں کے خیال میں اس مباہلہ کا یہ ہم پر زوال پڑا ہے۔ سو اول تو ہم اس جھوٹی خوشی اور اثر مباہلہ کی نسبت ان بزرگواروں کو جواب تک خواب غفلت میں ہیں اور ہنس رہے ہیں یہ دشمن گداز خبر
سناتے ہیں کہ ایسا سمجھنا کہ الہام غلط نکلا اور عیسائیوں کو فتح ہوئی۔ اس سے زیادہ کوئی بھی حمق نہیں* اگر آپ لوگ پہلے تحقیق کر لیتے
ایک نادان ہندو زادہ نام کا نومسلم سعد اللہ نام جو
عیسائیوں کی فتح یابی ثابت کرنے کیلئے اس قدر اپنی فطرتی شیطنت سے ہاتھ پیر مار رہا ہے کہ گویا اسی غم میں مر رہا ہے لدھیانہ سے اپنے ایک اشتہار میں لکھتا ہے کہ اگر اس بحث کے بعد جو
عیسائیت اور اسلام کے صدق و کذب کی تحقیق میں کی گئی تھی۔ عیسائی فریق پر مصیبتیں پڑیں تو کیا تمہارے بیعت کنندوں میں سے مولوی حکیم نور الدین صاحب کا ایک شیر خواربچہ فوت نہیں ہوگیا۔
لیکن اس نادان عدو الدین نے نہیں
اس تحریر کے لکھنے کے بعد مجھ پر نیند غالب ہو گئی اور میں سو گیا اور خواب میں دیکھا کہ اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب ایک جگہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان
کی گود میں ایک بچہ کھیلتا ہے جو انہیں کا ہے اور وہ بچہ خوش رنگ خوبصورت ہے اور آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔ میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ خدا نے بعوض محمد احمد آپ کو وہ لڑکا دیا کہ رنگ
میں شکل میں طاقت میں اس سے بدرجہا بہتر ہے اور میں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تو اور بیوی کا لڑکا معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلا لڑکا تو ضعیف الخلقت بیمار سا اور نیم جان سا تھا اور یہ تو قوی ہیکل
اور خوش رنگ ہے اور پھر میرے دل میں یہ آیت گذری جس کا زبان سے سنانا