خبردار رہے کہ خداتعالیٰ کی ظالموں اور کاذبوں پر *** ہے۔ جب تک عبد اللہ آتھم دو ہزار روپیہ لے کر ایسا دشمن اسلام نہ ہولے
اور حضرت مسیح کو خدا سمجھنے کا اقرار نہ کر لے اور پھر اس پر ایک برس بخیر نہ گذر جائے ہم کسی طرح کاذب نہیں ٹھہر سکتے۔ ہمیں اپنے الہام سے خداتعالیٰ نے جتلا دیا ہے کہ اس نے
عظمت اسلام قبول کر کے اور اسلامی پیشگوئی کی وجہ سے اپنے پر ہم و غم لے کر شرط الہامی سے فائدہ اٹھا لیا۔ اب اگر بغیر اس امتحان کے کوئی شخص ہمارا نام کاذب رکھے اور ہمیں مغلوب خیال
کرے تو وہ کاذب اور مورد *** اللّٰہ علی الکاذبین ہے اور پاک فطرت سے بے نصیب اس کو چاہیئے کہ عبد اللہ آتھم کے پاس جا کر ہاتھ پیر جوڑے اور بہت خوشامد کرے کہ وہ شرط مذکورہ کی
پابندی سے ہزار روپیہ مجھ سے لے لے اور اس قطعی فیصلہ کے بالمقابل کھڑا ہو جائے ورنہ میاں عبد الحق غزنوی ہو یا میاں ثناء اللہ یا سعد اللہ یا غلام رسول یا کوئی اور ہو خوب یاد رکھیں کہ
مسلمان کہلا کر بے وجہ عیسائیوں کو غالب قرار دینا اور سراسر ظلم کی راہ سے ان کا نام فتح یاب رکھنا یہ حلال زادوں کا کام نہیں چاہیئے کہ اب بھی سمجھ جائیں اور یقیناً اور غور کر کے دیکھ لیں
کہ اس بحث میں عیسائی مغلوب ہوئے ہیں۔ ان کے فریق پر خداتعالیٰ نے ہر طرح سے آفت اور ذلت ڈالی چنانچہ اس فریق میں سے ایک پادری صاحب تو فوت ہوگئے اور دو مر مر کے بچے اور بعضوں
کے گلے میں ہزار *** کی ذلت کا رسّہ پڑ گیا جس رسّہ سے وہ اپنی گردنوں کو چھوڑا نہ سکے۔ اب ایماناً کہو فتح کس کی ہوئی اور مباہلہ کا بد اثر کس پر پڑا خداتعالیٰ سے ڈرو اور بڑھتے نہ جاؤ
وہ ؔ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ توبہ کرو تا توبہ کا پھل پاؤ۔ غضب کی بات ہے کہ خداتعالیٰ نے تو اس پیشگوئی کے بعد فریق مخالف کے ہریک فرد پر قہر نازل کیا موت نازل کی ذلت نازل
کی بیماری نازل کی خوف نازل کیا اور پھر بھی کہا جاتا ہے کہ عیسائی غالب رہے ہیں۔لوگو! ایک دن مرنا ہے یا نہیں، بیشک عیسائیوں کی حمایت کرو اور سچ کو چھوڑ دو۔ رب العرش دیکھ رہا ہے کہ
تم کیا کر رہے ہو جو شخص درحقیقت عزت پا گیا تم اُس کو ذلیل کرسکتے ہو اے غزنوی گروہ کے لوگو! اے امرت سر کے مسلمانو مگر اسلام کے دشمنو اور اے لدھیانہ کے سخت دل مولویو اور
منشیو!!! خوب سوچ لو کہ تم کیا کام کر رہے ہو اور اے غزنویو تم ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ تمہارا مباہلہ تم پر ہی پڑا جھوٹے اشتہاروں سے شرم کرو اور یہ میرا تمام رسالہ غور سے پڑھو تا
تمہیں معلوم ہو۔ والسلام علٰی من اتّبع الہدٰی۔