تسلیم کر لیا اور اس صریح نتیجہ سے کچھ بھی نہ ڈرے جو مغلوب ہونے کی حالت میں فریق مخالف کے ہاتھ میں آتا ہے اور جب میاں ثناء اللہ و سعد اللہ و عبد الحق وغیرہ نے عیسائیوں کا غالب ہونا مان لیا تو پھر کیوں یہ لوگ اپنے اشتہاروں میں عیسائیوں کے حال پر افسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی تکذیب کے لئے یہ حجت قرار دی جبکہ بحث اسلام اور عیسائیت کے صدق و کذب کی تھی نہ میرے کسی خاص عقیدہ کی تو نعوذ باللہ اگر میں مغلوب ہوں تو پھر دشمن کے لئے حق پیدا ہوگیا کہ اپنی عیسائیت کے صدق کا دعویٰ کرے امور بحث پر نظر چاہیئے نہ مباحث پر مثلاً اگر ہماری طرف سے ایک بھنگی یا چمار جو دین سے بالکل الگ ہے اسلامی حمایت میں عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کرے تو پھر بھی یہ ممکن نہ ہوگا کہ عیسائی فتح یاب ہوں اور خدا تعالیٰ اس کا بھنگی یا چمار ہونا نہیں دیکھے گا بلکہ اپنے دین کی عزت محفوظ رکھ لے گا اور کبھی اسلام کو سبکی نہیں دکھلائے گا۔ تمہیں معلوم ہوگا کہ بعض کافر اور بت پرست آنحضرت صلعم سے عہد صلح کر کے دوسرے کافروں کے ساتھ لڑتے تھے اور چونکہ اس حالت میں مؤیّد اسلام تھے تو دشمنوں پر فتح پاتے تھے سو فرض کرو کہ میں تمہاری نظر میں سب کافروں سے بدتر ہوں اور دوسرے کافر تو خالدین فیہا ابدا کے جہنم میں سزا پائیں گے اور میری سزا تمہاری نظر میں اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیونکہ تم نے میرا نام نہ صرف کافر بلکہ اکفر رکھا مگر تاہم سوچنے کا مقام تھا کہ امور بحث میں ان باتوں کا کچھ بھی دخل نہ تھا۔ جن کی وجہ سے مجھ کو آپ لوگ کافر اور اکفر اور دجال کہتے ہیں بلکہ زیر بحث وہی باتیں تھیں جن کیلئے ہریک مسلمان کو غیرت کرنی چاہیئے اور پھر طرفہ تر یہ کہ مجھ کو مغلوبؔ اور عیسائیوں کو غالب بتلاتے ہیں یہ ایسا سفید جھوٹ ہے کہ کسی طرح چُھپ نہیں سکتا۔ پیشگوئی کے مسٹر عبد اللہ آتھم کی نسبت دو۲ پہلو تھے نہ صرف ایک اور خداتعالیٰ نے اس پہلو کو جو مشکوک کیا گیا تھا یعنی موت کو چھوڑ دیا کیونکہ عبد اللہ آتھم کی موت کو کچھ ایک معمولی بات اور قریب قیاس سمجھا گیا تھا اور دوسرا پہلو حق کی طرف رجوع کرنا تھا اس پہلو کو خدا تعالیٰ نے عبد اللہ آتھم کے افعال سے ثابت کر دیا۔ اگر کوئی مولویوں میں سے کہے کہ ثابت نہیں تو اگر وہ اِس بات میں سچا اور حلال زادہ ہے تو عبداللہ آتھم کو اس حلف پر آمادہ کرے جوہم لکھ چکے ہیں اگر عبد اللہ آتھم قسم کھا لے تو ہم بلا توقف ہزار روپیہ بلکہ اب تو دو ہزار روپیہ باضابطہ تحریر لے کر دے دیں گے۔ پھر اگر وہ ایک سال تک فوت نہ ہوا تو جو مولوی لوگ ہمارا نام رکھیں سب سچ ہوگا ورنہ اس تصفیہ سے پہلے جو شخص اس فتح نمایاں کو قبول نہیں کرتا خواہ وہ امرت سری ہے یا غزنوی یا لدھیانوی یا دہلوی یا بٹالوی وہ سراسر ظلم کرتا ہے اور