نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اٹھاتے ہیں جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہوسکتے نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے
سب وشتم سے نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دم مارتے ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کئے جائیں گے اور ان کا پچھلا حال ان کے پہلے سے بدتر ہوگا۔ کیا ہم
زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں۔ کیا ہم خداتعالیٰ کی راہ میں ابتلاؤں سے خوفناک ہو جائیں گے۔ کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں ہوسکتے مگر محض اس کے فضل اور
رحمت سے۔ پس جو جدا ہونے والے ہیں جدا ہو جائیں ان کو وداع کا سلام۔ لیکن یاد رکھیں کہ بدظنی اور قطع تعلق کے بعد اگر پھر کسی وقت جھکیں تو اس جھکنے کی عند اللہ ایسی عزت نہیں ہوگی جو
وفادار لوگ عزت پاتے ہیں۔ کیونکہ بدظنی اور غداری کا داغ بہت ہی بڑا داغ ہے۔
اکنون ہزار عذر بیاری گناہ را
مرشوے کردہ را نبود زیب دختری
نیم عیسائیوں کا ذکر
بعض نام کے مسلمان
جن کو نیم عیسائی کہنا چاہیئے اس بات پر بہت خوش ہوئے کہ عبد اللہ آتھم پندرہ ماہؔ تک نہیں مر سکا اور مارے خوشی کے صبر نہ کر سکے آخر اشتہار نکالے اور اپنی عادت کے موافق بہت کچھ ان
میں گند بکا اور اس ذاتی بخل کی وجہ سے جو میرے ساتھ تھا اسلام پر بھی حملہ کیا کیونکہ میرے مباحثات اسلام کی تائید میں تھے نہ میرے مسیح موعود ہونے کی بحث میں غایت درجہ مَیں ان کے
خیال میں کافر تھا یا شیطان تھا یا دجال تھا۔ لیکن بحث تو جناب رسول اللہ صلعم کی صداقت اور قرآن کریم کی فضیلت کے بارہ میں تھی اور صادق کاذب کی یہ تشریح لکھی گئی ہے کہ جو شخص سچے
دل سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھتا ہے وہ صادق ہے اور جو حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ
علیہ وسلم کی نبوت سے انکاری ہے وہ کاذب ہے۔ اسی فیصلہ کے لئے الہام پیش کیا گیا تھا لیکن ہمیں آہ کھینچ کر کہنا پڑا کہ مخالف مولویوں نے مجھے دروغ گو ثابت کرنے کیلئے اللہ اور رسول کی
عزت کا ذرہ خیال نہ کیا اور میرا مغلوب ہونا اس بحث میں