مسٹر عبد اللہ آتھم کی مصیبتوں اور خوف زدہ ہوکر شہر بشہر پھرنے پر آپ کا دل پگھلتا نہ رہا کیا اس حالت میں مسٹرآتھم
صاحب جلتے ہوئے تنور میں رہے یا بہشت میں۔ کوئی کسی مخالف کو جھوٹا سمجھ کر تو اس قدر رعب اس کی بات کا دل پر غالب نہیں کر سکتا جب تک خدا وہ رعب دل میں نہ ڈالے۔ سو خدا تعالیٰ نے
اس خوف کو موت کا قائم مقام بنا کر اپنے قدیم قانون کے موافق جسمانی موت کو دوسرے وقت پر ڈال دیا کیونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے زہرہ گداز خوفؔ کے ساتھ اس شرط کو پورا کیا جو الہام میں درج
تھی اور موت سے مانع تھی اور اس جگہ یہ بھی بخوبی یاد رہے کہ ہاویہ میں گرنے کی جو پندرہ ماہ کی میعاد تھی اسی میعاد کے اندر عیسائی فریق کے ہریک فردنے ہاویہ میں سے حصہ لیا ہاں مسٹر
عبد اللہ آتھم نے اگرچہ ایک ہاویہ تو دیکھ لیا مگر اپنے خیالات کو حق کی عظمت کے نیچے لا کر اور حق کی طرف رجوع دے کر وہ بڑا حصہ ہاویہ کا جو موت ہے نہیں لیا اور الہامی شرط اس کے
لینے سے مانع آگئی جیسا کہ پندرہ مہینوں کی میعاد الہام میں درج تھی ویسا ہی یہ شرط بھی جو میعاد کو غیر مؤثر کرتی ہے الہام میں ہی داخل تھی۔
بالآخر ہم یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ اس وقت جو
ہم اس حاشیہ کو لکھ رہے تھے۔ امرتسر کے عیسائیوں اور ڈاکٹر کلارک مارٹن کی طرف سے ایک اشتہار پہنچا جو محمد سعید مرتد کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ اس اشتہار کا دندان شکن جواب ہمارے
اس اشتہار میں آگیا ہے لیکن اس وقت ناظرین کو پادری صاحبوں کی ایک بڑی خباثت اور خیانت پر مطلع کرتے ہیں جس کے بغیر یہ لوگ اس اشتہار کو لکھ نہیں سکتے تھے اور وہ خیانت یہ ہے کہ
ہاویہ اور موت سے بچنے کے لئے جو شرط ہم نے اپنی الہامی عبارت میں لکھی تھی یعنی یہ کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اس شرط کو عمداً انہوں نے خیانت اور تحریف کی راہ سے
الہامی عبارت میں سے گرا دیا کیونکہ یہ دھڑکا دل میں شروع ہوا کہ یہ شرط تمام منصوبہ ان کا برباد کرتی ہے اور خوب جانتے تھے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنے افعال کے ساتھ اس شرط کی پناہ
لے لی ہے اور افعال کی قید تو صرف ہم نے ظاہر بینوں کے لحاظ سے کی ہے ورنہ جو کچھ باطنی رجوع اور صلاحیت کی طرف قدم اٹھانا پوشیدہ طور پر ظہور میں آیا ہوگا اس حالت کو مسٹر عبد اللہ
آتھم صاحب کا جی جانتا ہوگا۔ غرض انہوں نے جو ہماری الہامی شرط کو عمداً اپنے اشتہار سے گرایا تو اس مجرمانہ خیانت کے اختیار کرنے سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عیسائی گروہ اس
بات کا قائل ہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنی حالت کو ایک مصیبت زدہ حالت بنانے سے اور اسلامی عظمت کا ایک سخت خوف اپنے دل پر ڈالنے سے اس شرط