نہیں کیونکہ آئندہ کے لئے الہام میں یہ بشارتیں ہیں و نمزق الاعداء کل ممزق یومئذ یفرح المؤمنون ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الاٰخرین
یعنی مخالف فاش شکستوں سے پارہ پارہ ہو جائیں گے اور اس دن مومن خوش ہوں گے پہلا گروہ بھی اور پچھلا بھی۔ پس یقیناً سمجھو کہ وہ دن آنے والے ہیں کہ وہ سب باتیں پوریؔ ہوں گی جوالٰہی
الہام میں آچکیں۔ دشمن شرمندہ ہوگا۔ اور مخالف ذلت اٹھائے گا اور ہر یک پہلو سے فتح ظاہر ہو جائے گی۔ اور یقیناً سمجھئے کہ یہ بھی ایک فتح ہے اور آنے والی فتح کا ایک مقدمہ ہے کیا عیسائی اپنی
جہالت کھلنے کی وجہ سے ذلیل نہیں ہوئے۔ کیا بعض لوگ مباحثہ کے حامیوں اور سرگروہوں میں سے اسی میعاد کے اندر موت کے پنجہ میں گرفتار نہیں ہوئے۔ کیا بعض اسی میعاد کے اندر سخت
بیماریوں سے موت تک نہیں پہنچے۔ کیا ان میں سے مسٹر عبد اللہ آتھم ایسی بلا میں پندرہ ماہ تک گرفتار نہیں رہا جو ہر وقت اس کی جان کھاتی تھی جس کی وجہ سے وہ سخت سراسیمہ اور مسلسل
غموں اور اندوہوں میں غرق رہا اور اپنی خوفناک حالت کا ایک عجیب نقشہ اس نے دنیا پر ظاہر کیا اور اب بھی رعب حق نے اس کو میّت کی طرح کر رکھا ہے پس کیا اتنے عجیب واقعات کے ساتھ ابھی
پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔ کیا اس قدر خوف اور دہشت کے قبضہ میں کسی کو کر دینا یہ انسان کا کام ہے کیا کسی کو سخت بیمار کرنا اور کسی کو ہلاک کرنا انسانی افعال میں سے ہے۔ کاش ہمارے
مخالف خاص کر ڈاکٹر مارٹین کلارک صاحب اس بات کو غور سے سمجھیں اور اپنی تار کو جو ہماری طرف بھیجی واپس لیں اور ذرہ ایک منٹ کیلئے عقلمندی کو کام میں لا کر سوچیں کہ پیشگوئی کے
بعد کس فریق پر میعاد کے اندر عام مصیبتیں اور ذلتیں پڑیں۔ کیا وہ انجیل اٹھا کر قسم کھا سکتے ہیں کہ عیسائیوں پر وہ مصیبتیں نہیں پڑیں جن کا پہلے اس سے نام و نشان نہ تھا۔ کیا خدا نے ہزار ***
کی ذلت۔ موت۔ بیماری۔ خوف۔ سراسیمگی یہ سب ان پر مسلط کر دیا یا ابھی اس میں کچھ شک ہے۔ کیا وہ لاعلاج ذلت جس نے تمام دنیا کو دکھا دیا کہ پادریوں کا قرآن کریم پر حملہ کرنا محض حماقت کی
وجہ تھا نہ کسی بصیرت علمی سے۔ وہ ایسی ذلت نہیں ہے جس سے ہمیشہ کیلئے منہ کالا رہے کیا کوئی پادریوں میں سے نور الحق کے جواب پر قادر ہوسکا اور اگر نہیں قادر ہو سکا تو یہ ہزار ***
کی ذلت کا رسہ کس کے گلے میں پڑا۔ ہمارے گلے میں یا ڈاکٹر مارٹن صاحب کے گروہ کے گلے میں۔ ہم کچھ نہیں کہتے آپ ہی فیصلہ کریں کہ یہ ذلت ہے یا نہیں کیا پادری رائٹ صاحب کی بے وقت
موت نے جو پیشگوئی کے میعاد کے اندر تھی آپ نے آنسو جاری نہ کئے۔ کیا