سے فائدہ اٹھایا اور گو ایک درجے تک ہاویہ دیکھ لیا اور الہامی الفاظ کو پورا کر دکھایا لیکن اسی شرط کے طفیل سے موت کے دنوں کے لئے مہلت لے لی۔ ہم اس دعویٰ میں مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے دل کو گواہ قرار دیتے ہیں نہ اور کسی کو۔ پس اگر کوئی ان کے حالات پر نظر ڈالنے سے مطمئن نہ ہوسکے اور اندھوں کی طرح ان کے واقعات سے آنکھیں بند کرے تو ہم اس کو اللہ تعالیٰ کی قسم دیتے ہیں کہ اگر وہ ایسی رائے شرارت اور خیانت کی راہ سے نہیں بلکہ نیک دلی سے رکھتا ہے تو مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو اس معاملے کے لئے مستعد کرے جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں جس میں ان کا کچھ خرچ نہیں آتابلکہ ایک ہزار روپیہ مفت ہاتھ آتا ہے جس حالت میں وہ اس عاجز کو جھوٹا یقین کر چکے ہیں تو دو حرف کا اقرارؔ کرنے میں کون سا ان کا خرچ آتا ہے بلکہ ہم خود اطلاع یابی پر امرت سر آنے پر تیار ہیں ورنہ بغیر اس تصفیہ کے جو شخص ہماری تکذیب کرے وہ خود کاذب اور *** اللّٰہ علی الکاذبین کا مستحق ہے۔ ہم اسی شخص کے ہاتھ میں روپیہ دیتے ہیں وہ باضابطہ تحریر ہم کو دے کر جہاں چاہے جمع کراوے اور ہم اگر درخواست کے بعد تین ہفتہ تک روپیہ جمع نہ کرا ویں تو بے شک کاذب ہیں۔ مگر درخواست اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد ایک ہفتہ تک ہمارے پاس آنی چاہیئے تا جو جھوٹا ہو وہ ہلاک ہو ہم بار بار کہتے ہیں اور بخدا ہم سچ کہتے ہیں کہ مسٹر عبد اللہ آتھم عظمت اسلامی کو قبول کر کے اور حق کی طرف رجوع کر کے بچا ہے۔ اب سارا جہان دیکھ رہا ہے کہ اگر مسٹر عبد اللہ آتھم کے نزدیک ہمارا یہ بیان صحیح نہیں ہے تو وہ اس دوسری جنگ کو بھی قبول کریں گے جبکہ سانچ کو آنچ نہیں تو ان کو مقابلہ سے کیا اندیشہ ہے اور پادری صاحبوں نے جو الہامی فقرہ اپنے اشتہار میں سے خباثت کی راہ سے حذف کر دیا ہے اس کا ہمیں اس وجہ سے افسوس نہیں کہ جب کہ ان کے باپ دادا قدیم سے تحریف کرتے آئے ہیں تو وہ بھی فطرتاً تحریف کے لئے مجبور تھے اور ضرور چاہیئے تھا کہ تحریف کریں تاان کے نقش قدم پر چلیں۔ والسلام علٰی من اتبع الہدٰی۔