پہنچ جائیں کہ جو سنت اللہ کے موافق عذاب نازل ہونے کا درجہ ہے اس مقام میں شاہ عبد القادر صاحب کی طرف سے موضحؔ
القرآن میں سے ایک نوٹ ہے جس کی عبارت ہم بلفظہ درج کرتے ہیں اور وہ یہ ہے یعنی ان کے ہلاک ہونے کے اسباب پورے ہوتے تھے۔ جب تک شرارت حد کو نہ پہنچی تب تک ہلاک نہیں ہوئے۔ تمّ
عبارتہ دیکھو صفحہ ۵۲۸ قرآن مطبع فتح الکریم۔ ان تمام آیات سے ثابت ہوا کہ عذاب الٰہی جو دنیا میں نازل ہوتا ہے وہ تبھی کسی پر نازل ہوتا ہے کہ جب وہ شرارت اور ظلم اور تکبر اور علو اور غلو
میں نہایت کو پہنچ جاتا ہے یہ نہیں کہ ایک کافر خوف سے مرا جاتا ہے اور پھر بھی عذاب الٰہی کے لئے اس پر صاعقہ پڑے اور ایک مشرک اندیشہ عذاب سے جان بلب ہو اور پھر بھی اس پر پتھر
برسیں۔ خداوند تعالیٰ نہایت درجہ کا رحیم اور حلیم ہے عذاب کے طورپر صرف اسی کو اس دنیا میں پکڑتا ہے جو اپنے ہاتھ سے عذاب کا سامان تیار کرے اور جب کہ یہی سنت اللہ ہے اور یہی قانون
الٰہی تو پھر عبداللہ آتھم کے حالات اس میزان میں رکھ کر خوب احتیاط سے تولنا چاہیئے اور بہت ہوشیاری سے وزن کرنا چاہیئے کہ ان پندرہ مہینوں میں اس کی حالت کیسی رہی کیا کسی نے سنا کہ
اس مدت میں وہ کسی قسم کی بے باکی اور گستاخی اور بدزبانی اسلام کی نسبت ظاہر کرتا رہا۔ یا تکبر اور شرّ کی حرکات اس سے صادر ہوئیں یا اس نے بے ادبی اور توہین کی کتابیں تالیف کیں اور
تحقیر اور توہین کے ساتھ زبان کھولی ہرگز نہیں۔ اس عرصہ میں اسلامی توہین کے بارہ میں ایک سطر تک اس نے شائع نہیں کی بلکہ برعکس اس کے اپنی جان کے خوف میں سخت مبتلا ہوگیا اور
اسلامی عظمت کو ایسا قبول کیا کہ دوسرے عیسائیوں کی نسبت ہمارے پاس کوئی ایسی نظیر نہیں۔ اس نے خوف دکھایا اور ڈرا۔ اس لئے خداتعالیٰ نے اپنی سنت اللہ کے موافق اس سے وہ معاملہ کیا جو
کہ ڈرنے والے دل سے ہونا چاہیئے یہی شرط الہام میں بھی درج تھی کیونکہ حق کی طرف جھکنا اور اسلامی عظمت کو اپنی خوفناک حالت کے ساتھ قبول کرنا درحقیقت ایک ہی بات ہے۔ جو لوگ صداقت
کا خون کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور اپنے بخلوں کی وجہ سے حق پوشی کی طرف قدم چلاتے ہیں ان کی زبان بند نہیں ہوسکتی اور نہ کبھی بند ہوئی لیکن جو لوگ حیا اور شرم کو استعمال کرکے اس
پیشگوئی کی طرف ایک غور کن دل کے ساتھ نظر ڈالیں گے اور تمام واقعات کو آگے رکھ کر پاک اور بے لگاؤ دل کے ساتھ ایک رائے ظاہر کریں گے ان کو ماننا پڑے گا کہ پیشگوئی اپنے مضمون کے
لحاظ سے پوری ہوگئی اس نے بلاشبہ وہ آثار دکھائے جو پہلے موجود نہیں تھے۔ اور اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ سب ہوچکا اور آگے کچھ