اور وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی سنت اللہ ہے جس سے بجز ایک سخت جاہل کے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ دیکھو حضرت موسیٰ کو نزول توریت کے لئے تیس رات کا وعدہ دیا تھا اور کوئی ساتھ شرط نہ تھی مگر وہ وعدہ قائم نہ رہا اور اس پر دس دن اور بڑھائے گئے جس سے بنی اسرائیل گو سالہ پرستی کے فتنہ میں پڑے پس جبکہ اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے وعدہ کی تاریخ کو بھی ٹال دیتا ہے جس کے ساتھ کسی شرط کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو وعید کی تاریخ میں عند الرجوع تاخیر ڈالنا خود کرم میں داخل ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اگر تاریخ عذاب کسی کے توبہ استغفار سے ٹل جائے تو اس کا نام تخلف وعدہ نہیں کیونکہ بڑا وعدہ سنت اللہ ہے جبکہ سنت اللہ پوری ہوئی تو وہ ایفاء وعدہ ہوا نہ تخلف وعدہ * قولہ عذاب موت اگر استغفار سے ٹل جاتا ہے تو اس کی بقیہ حاشیہ: کا ہرگزیہ منشا نہیں ہوگا کہ آنحضرت صلعم وعدہ کو فی الحقیقت وعدہ سمجھ کر پھر جو ازعدم ایفائے وعدہ کے قائل تھے کیونکہ تخلف وعدہ ایک نقص ہے جو خداتعالیٰ پر جائز نہیں بلکہ آنحضرت صلعم یہ سمجھتے ہوں گے کہ خروج دجال اور ظہور مہدی وغیرہ یہ سب مواعید تو برحق ہیں لیکن ممکن ہے کہ انکے ظہور کے لئے شرائط ہوں جن کے عدم سے یہ بھی حیز عدم میں رہیں اور یاممکن ہے کہ ایسے طور سے یہ وعدے ظہور میں آجائیں کہ ان پر اطلاع بھی نہ ہو۔ کیونکہ سنت اللہ میں پیشگوئیوں کے ظہور کے لئے کوئی ایک طور اور طریق مقرر نہیں ہے کبھی اپنے ظاہری معنوں پر پوری ہوتی ہیں اور کبھی تاویلی طورپر۔ ہاں آنحضرت صلعم کے اس طریق اتقاء سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس زمانہ کے علماء کس قدر اس تقویٰ کے طریق سے دور جا پڑے ہیں۔ منہ *حاشیہ: اگر بے چارے شیخ بٹالوی کے دل کو دھڑکا پکڑتا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ۱؂ اور تاریخ مقررہ کی کمی بیشی کرنا تخلف وعدہ کی ایک جز ہے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ وعدہ سے مراد وہ امر ہے جو علم الٰہی میں بطور وعدہ قرار پاچکا ہے نہ وہ امر جو انسان اپنے خیال کے مطابق اس کو