نظیر دو الجواب اے نادان اس کی نظیر قرآن آپ دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۱ الجزو نمبر ۱۱۔ اب ظاہر ہے کہ ان آیات کا
حاصل مطلب یہی ہے کہ جب بعض گنہگاروں کو ہلاک کرنے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے قہری ارادہ سے اس دریا میں صورت طوفان پیدا کرتا ہے جس میں ان لوگوں کی کشتی ہو تو پھر ان کی تضرع اور
رجوع پر ان کو بچا لیتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ پھر وہ مفسدانہ حرکات
بقیہ حاشیہ: قطعی وعدہ خیال کرتا ہو اسی وجہ سے المیعاد پر جو الف لام ہے وہ عہد ذہنی کی قسم میں سے ہے یعنی وہ
امر جو ارادہ قدیمہ میں وعدہ کے نام سے موسوم ہے گو انسان کو اس کی تفاصیل پر علم ہو یا نہ ہو۔ وہ غیر متبدل ہے ورنہ ممکن ہے جو انسان جس بشارت کو وعدہ کی صورت میں سمجھتا ہے اس کے
ساتھ کوئی ایسی شرط مخفی ہو جس کا عدم تحقق اس بشارت کے عدم تحقق کے لئے ضرور ہو کیونکہ شرائط کا ظاہر کرنا اللہ جلّ شانہٗپر حق واجب نہیں ہے چنانچہ اسی بحث کو شاہ ولی اللہ
صاحب نے بسط سے لکھا ہے اور مولوی عبد الحق صاحب دہلوی نے بھی فتوح الغیب کی شرح میں اس میں بہت عمدہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلعم کا بدر کی لڑائی میں تضرع اور دعا
کرنا اسی خیال سے تھا کہ الٰہی مواعید اور بشارات میں احتمال شرط مخفی ہے اور یہ اس لئے سنت اللہ ہے کہ تا اس کے خاص بندوں پر ہیبت اور عظمت الٰہی مستولی ہو۔
پس ماحصل کلام یہ ہے
کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں بے شک تخلف نہیں وہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں پورے ہو جاتے ہیں لیکن انسان ناقص العقل کبھی ان کو تخلف کی صورت میں سمجھ لیتا ہے کیونکہ بعض ایسی
مخفی شرائط پر اطلاع نہیں پاتا جو پیشگوئی کو دوسرے رنگ میں لے آتے ہیں۔ اور ہم لکھ چکے ہیں کہ الہامی پیشگوئیوں میں یہ یاد
رکھنے کے لایق ہے کہ وہ ہمیشہ ان شرایط کے لحاظ سے پوری
ہوتی ہیں جو سنت اللہ
میں اور الٰہی کتاب میں مندرج ہوچکی ہیں گو وہ شرائط کسی ولی
کے الہام میں ہوں یا نہ ہوں۔ منہ