لالچ میں کیونکر داخل ہوا۔قولہ یہ قرآن میں نہیں کہ عذاب کا وعدہ آیا اور کسی قدر خوف سے ٹل گیا الجواب تمام قرآن اس تعلیم
سے بھرا پڑا ہے کہ اگر تو بہ و استغفار قبل نزول عذاب ہو تو وقت نزول عذاب ٹل جاتا ہے بائبل میں ایک بنی اسرائیل کے بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس کی نسبت صاف طور پر وحی وارد ہوچکی تھی
کہ پندرہ دن تک اس کی زندگی ہے پھر فوت ہو جائے گا لیکن اس کی دعا اور تضرع سے خدا تعالیٰ نے وہ پندرہ دن کا وعدہ پندرہ سال کے ساتھ بدلا دیا اور موت میں تاخیر ڈال دی۔ یہ قصہ مفسرین نے
بھی لکھا ہے بلکہ اور حدیثیں اس قسم کی بہت ہیں جن کا لکھنا موجب طول ہے بلکہ علاوہ وعید کے ٹلنےؔ کے جو کرم مولیٰ میں داخل ہے اکابر صوفیاء کا مذہب ہے جو کبھی وعدہ بھی ٹل جاتا ہے
اور اس کا ٹلنا موجب ترقی درجات اہل کمال ہوتا ہے دیکھو فیوض الحرمین شاہ ولی اللہ صاحب اور فتوح الغیب سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہما *
* نوٹ: ان بزرگوں نے جو عدم ایفاء
وعدہ خدا تعالیٰ پر جائز رکھا ہے تو اس سے یہی مراد ہے کہ جائز ہے کہ جس بات کو انسان نے اپنے ناقص علم کے ساتھ وعدہ سمجھ لیا ہے وہ علم باری میں وعدہ نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ایسے
مخفی شرائط ہوں جن کا عدم تحقق عدم تحقق وعدہ کیلئے ضروری ہو اور علامہ محقق سید علی بن سلیمان مغربی نے اپنی کتاب وشی الدیباج علٰی صحیح مسلم بن الحجاج کے صفحہ ۱۲۶ میں تحت
حدیث یخشی ان تکون الساعۃ لکھا ہے۔ فانہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لکمال معرفتہ بربہ لا یری وجوب شیء علیہ تعالٰی ککون الساعۃ لا تقوم الا بعد تلک المقدمات ای خروج الدجال وغیرہ و ان وعد بہ۔ یعنی
آنحضرت صلعم اپنے کمال معرفت کی وجہ سے قبل از قیامت ان علامات کا ظاہر ہونا ضروری نہیں سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب نہیں خیال کرتے تھے کہ اس کے وعدہ کے موافق
دجال اور دآبۃ الارض اور مہدی موعود وغیرہ علامات موعودہ پوری ہوں پھر قیامت آوے بلکہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ ممکن ہے کہ قیامت آ جائے اور ان علامتوں میں سے کوئی بھی ظاہر
نہ ہو اور کسی قدر اسی کے موافق مواہب لدنیہ کی شرح میں لکھا ہے جو امام علامہ محمد بن عبد الباقی کی طرف سے ہے اور جواز نسخ اخبار کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھو صفحہ ۴۵ شرح مذکور
لیکن میرے نزدیک ان بزرگوں