ہیں کہ وہ الزام بجز قَسم کھانے کے کسی طرح ان کے سر پر سے اٹھ نہیں سکتا* کیونکہ ڈرنا جو رجوع کی ایک قِسم ہے ان
کے اقرار سے ثابت ہوا پھر بعد اس کے وہ ثابت نہ کر سکے کہ وہ صرف قتل کئے جانے سے ڈرتے تھے نہ انہوں نے حملہ کرتے ہوئے کسی قاتل کو پکڑا نہ انہوں نے یہ ثبوت دیا کہ ان سے پہلے
کبھی اس عاجز نے چند آدمیوں کا خون کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے دل میں بھی دھڑکا بیٹھ گیا کہ اسی طرح میں بھی مارا جاؤں گا بلکہ اگر کوئی نمونہ ان کی نظر کے سامنے تھا تو بس یہی کہ
ایک پیشگوئی ؔ موت کی یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری کی موت ان کے سامنے ظہور میں آئی تھی لہٰذا جیسا کہ الہام الٰہی نے بتلایا ضرور وہ پیشگوئی کی عظمت سے ڈرے اور یہ بات روئداد
موجودہ سے بالکل برخلاف ہے کہ وہ پیشگوئی کی صداقت تجربہ شدہ سے نہیں ڈرے بلکہ ہمارا خونی ہونا جو ایک تجربہ کے رو سے ایک تحقیقی امر تھا اس سے ڈر گئے پس اس الزام سے وہ بجز اس
کے کیونکر بری ہوسکتے ہیں کہ بحیثیت ایک شاہد کے قسم کھائیں اور بموجب قول پولس رسول کے جو ہریک مقدمہ کی حد قسم ہے اس مشتبہ امر کا فیصلہ کر لیں لیکن یہ نہایت درجہ کی مکّاری اور
بددیانتی ہے کہ قسم کی طرف تو رجوع نہ کریں اور یوں ہی حق پوشی کے طور پر جا بجا خط بھیجیں اور اخباروں میں چھپوائیں کہ میں عیسائی ہوں اور عیسائی تھا۔
اے صاحب! آپ کیوں خلق اللہ
کو دھوکا دیتے ہیں آپ کی ان مدعیانہ تقریروں کو وہی لوگ قبول کریں گے جن کا شیطانی مادہ پہلے سے یہی چاہتا ہے کہ حق ظاہر نہ ہو ورنہ ہریک منصف عقلمند جانتا ہے کہ آپکا بیان صرف بحیثیت
شاہد
*نوٹ:الہامی پیشگوئی کی عظمت سے ڈرنا بموجب تصریح قرآن کریم اور بائبل کے رجوع میں داخل ہے اور رجوع عذاب میں تاخیر ڈالتا ہے اس پر قرآن اور بائبل دونوں کا اتفاق ہے۔
منہ