معتبر ہوسکتا ہے نہ ان فضول باتوں سے جو آپ شائع کر رہے ہیں دنیا میں عیسائی مذہب جھوٹ بولنے میں اول درجہ پر ہے جنہوں نے خدا کی کتابوں میں بھی بے ایمانی کرنے سے فرق نہیں کیا اور صدہا جعلی کتابیں بنالیں پس کیا ایک بھلا مانس ان کے مدعیانہ بیان کو قبول کرسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ اگر ایک شخص راست باز بھی ہو تو وہ ایک فریق مقدمہ بن کر اس بات کا ہرگز مستحق نہیں کہ اس کا بیان جو بحیثیت مدعی یا مدعا علیہ ہے اس طور سے قبول کیا جائے جیسا کہ گواہوں کے بیانات قبول کئے جاتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا تو عدالتوں کو گواہوں کی کچھ بھی ضرورت نہ ہوتی۔ قانون شہادت میں ایک انگریز نے یہ بات خوب لکھی ہے کہ اگر فلاں تاجر نوٹ: ایک صاحب پشاور سے لکھتے ہیں کہ اگر عذاب کی پیشگوئی رجوع بدل کرنے سے ٹل جاتی ہے تو وہ ہرگز میعار صداقت نہیں ٹھہر سکتی اور اس پر تحدی نہیں ہوسکتی۔ مگر افسوس کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عند اللہ انکار قسم بھی جب منکر پر قسم انصافاًواجب ہو ایک میعار صداقت ہے جس کو کتاب اللہ نے منکر پر حد شرعی جاری کرنے کے لئے معتبر سمجھا ہے پھر جس شخص نے چار ہزار روپیہ تک اتمام حجت کی رقم لے کر قسم کھانے کے لئے جرأت نہ کی تو کیا اس نے اپنے افعال سے ثابت نہ کردیا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا تھا اور جس قانونی مطالبہ سے یعنی قسم سے ملزم نے سخت گریز کی تو کیا وہ معیار صداقت نہیں اور کیا وہ اب تک ایسا رجوع رہا جس پر کوئی بھی دلیل نہیں اور یہ کہنا کہ اب تک وہ انکار کئے جاتا ہے کیسی بدفہمی ہے اگر وہ حقیقی طور پر منکر ہوتا تو پھر ایسی قسم کے کھانے سے جس کا کھانا اس پر انصافاًواجب تھا کیوں گریز کرتا پس اس کا قسم نہ کھانا یہی اقرار ہے جس کو عقل سلیم سمجھتی ہے اور یہ کہنا کہ اس کی کوئی نظیر نہیں یہ دوسری نافہمی ہے۔ مماثلت کی نظیریں بتلا دی گئی ہیں غور سے پڑھو اور یہ کہنا کہ ایک جھوٹا بھی ایسی پیشگوئی موت کی کر کے آخر عدم وقوع کے وقت یہ عذر پیش کرسکتا ہے کہ دلی رجوع کے باعث عذاب ٹل گیا ہے یہ بھی انصاف اور تدبر سے بعید ہے بلکہ حق اور ایمان کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اور شخص بھی ایسی ہی پیشگوئی کرے اور یہی تمام واقعات ہوں تو قانون انصاف سے بعید ہوگا کہ ایسے شخص کو ہم کاذب کہیں جس کا صدق ملزم کے گریز سے ظاہر ہو رہا ہو بلکہ جھوٹا وہی کہلائے گا جو اس مطالبہ سے گریز کرے جو انصافاًاس پر عائد ہوتا ہے(باقی اگلے صفحہ پر)