دیکھو پیدائش ۲۲۱۶ اور پھر اپنی حیات کی قسم کھائی۔ غرض کہاں تک لکھیں اور مضمون کو طول دیں۔ بائیبل میں خدا کی قسمیں
فرشتوں کی قسمیں نبیوں کی قسمیں موجود ہیں اور انجیل میں مسیح کی قسم پطرس کی قسم پولس کی قسم پائی جاتی ہے۔ اسی جہت سے عیسائیوں کے علماء نے جواز قسم پر فتویٰ دیا ہے۔ دیکھو تفسیر
انجیل مؤلفہ پادری کلارک اور پادری عمادالدین مطبوعہ ۱۸۷۵ ء اور مسیح نے خدا تعالیٰ کی سچی قسم سے کسی جگہ منع نہیں کیا بلکہ اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی آسمان کی قسم کھاوے یا
زمین کی یا یروشلم کی یا اپنے سر کی اور جو شخص ایسا سمجھے کہ خدا تعالیٰ کی سچی قسم کسی گواہی کے وقت کھانا منع ہے وہ سخت احمق ہے اور مسیح کے منشاء کو ہرگز نہیں سمجھا۔ اگر
مسیح کا منشاء خدا تعالیٰ کی قسم کی ممانعت ہوتی تو وہ اپنی تفصیلی عبارت میں ضرور اس کا ذکر کرتا لیکن اس نے متی ۵ باب ۳۳ آیت میں ’’کیونکہ‘‘ کے لفظ سے صرف یہ سمجھانا چاہا کہ تم
آسمان اور زمین اور یروشلم اور اپنے نفس کی قسم مت کھاؤ۔ خدا تعالیٰ کی قسم کا اس میں ذکر بھی نہیں اور موسیٰ کی تعلیم پر اس میں یہ تصریح زیادہ ہے کہ صرف جھوٹی قسم کھانا حرام نہیں بلکہ
اگر غیر اللہ کی قسم ہو تو اگرچہ سچی ہو وہ بھی حرام ہے یہی وجہ ہے کہ اس تعلیم کے بعد حضرت مسیح کے حواری قسم کھانے سے باز نہیں آئے اور ظاہر ہے کہ حواری انجیل کا مطلب آتھم
صاحب سے بہتر سمجھتے تھے اور ابتداء سے آج تک جواز قسم پر مسیحیوں کے اکثر فرقوں میں اتفاق چلا آیا ہے۔ پھر اب سوچنا چاہیئے کہ جبکہ پطرس نے قسم کھائی پولس نے قسم کھائی مسیحیوں
کے خدا نے قسم کھائی فرشتوں نے قسم کھائی نبیوں نے قسمیں کھائیں اور تمام پادری ذرہ ذرہ مقدمہ پر قسمیں کھاتے ہیں پارلیمنٹ کے ممبر قسم کھاتے ہیں ہریک گورنر جنرل قسم کھا کر آتا ہے تو پھر
آتھم صاحب ایسے ضروری وقت میں کیوں قسم نہیں کھاتے حالانکہ وہ خود اپنے اس اقرار سے کہ میں پیشگوئی کے بعد ضرور موت سے ڈرتا رہا ہوں ایسے الزام کے نیچے آگئے