کا یہ ممانعت قسم کا بہانہ ان کی بددیانتی اور ردی حالت کی کھلے طور پر قلعی کھولتا ہے کیونکہ اس بہانہ کو کوئی بھی باور نہیں کر سکتا کہ مسیح کے تمام حواری اور پولس رسول ممنوعات انجیل میں گرفتار ہوکر ایمانی دولت سے بے نصیب رہے اور یہ ایمان آتھم صاحب کے ہی حصہ میں آیا اور پھر مجھے یہ دعویٰ بھی سراسر جھوٹ معلوم ہوتا ہے کہ آتھم صاحب نے اب تک کسی عدالت میں قسم نہیں کھائی اور تمام حکام اس بات پر راضی رہے کہ آتھم صاحب کسی شہادت کے ادا کرنے کے وقت بغیر قسم اظہار لکھوا دیا کریں اور نہ میں یہ باور کر سکتا ہوں کہ اگر آتھم صاحب اب بھی کسی شہادت کے لئے بلائے جائیں تو یہ عذر پیش کریں کہ چونکہ میں پارلیمنٹ کے ممبروں اور تمام متعہد عیسائی ملازموںّ ٰ حتّٰی کہ گورنر جنرل سے بھی زیادہ ایماندار ہوں اس لئے ہرگز قسم نہیں کھاؤں گا۔ آتھم صاحب خوب جانتے ہیں کہ بائیبل میں نبیوں کی قسمیں بھی مذکور ہیں خود مسیح قسم کا پابند ہوا دیکھو متی ۲۷ باب ۶۳ آیت خدا نے قسم کھائی دیکھو اعمال ۷ باب ۶ آیت ۱۷۔ اور خدا کا قسم کھانا بموجب عقیدہ عیسائیوں کے مسیح کا قسم کھانا ہے کیونکہ بقول ان کے دونوں ایک ہیں اور جو شخص مسیح کے نمونہ پر اپنی عادات اور اخلاق نہیں رکھتا وہ مسیح میں سے نہیں ہے۔ اور یرمیا کی تعلیم کی رو سے قسم کھانا عبادت میں داخل ہے دیکھو یرمیا باب ۴ آیت ۲۔ اور زبور میں لکھا ہے کہ جو جھوٹا ہے وہی قسم نہیں کھاتا دیکھو زبور ۶۳ آیت ۱۱۔ سو ؔ آتھم صاحب کے جھوٹا ہونے پر داؤد نبی حضرت عیسیٰ کے دادا صاحب بھی گواہی دیتے ہیں۔ فرشتے بھی قسم کھاتے ہیں دیکھو مکاشفات ۱۰۶ پھر عبرانیوں کے چھ۶ باب ۱۶ آیت میں مسیحیوں کا معلم کہتا ہے کہ ہریک قضیہ کی حد قسم ہے یعنی ہریک جھگڑا آخر قسم پر فیصلہ پاتا ہے۔ توریت میں خدا نے برکت دینے کے لئے قسم کھائی۔ نوٹ:وہ بولا خداوند کی قسم جس کے آگے میں کھڑا ہوں۔ سلاطین ۱۶؍۵۔