وکانوا لا ینطقون من الہوی بل بوحیٍ یُّوحٰی، فکأنہم صاروا روح القدس فقط لا نفسَ معہ ولا أعراضَہا۔ ثم اعلم أن الأنبیاء کنفس واحدۃ، لا یقال إنہم أرواح بل یقال إنہم روح، وذلک لشدّۃ اتحادہم الروحانیۃ وتناسُب جوہرہم الإیمانیۃ، وبما أنہم فنوا من أنفسہم وحرکا تہم وسکناتہم وأہواۂم وجذباتہم، وما بقی فیہم إلا روح القدس، ووصلوا اللّٰہ متبتّلین منقطعین، فأراد اللّٰہ أن یبین فی ہذہ الآیۃ مقامَ تجرُّدِہم ومراتبَ تقدُّسہم وتطہُّرہم من أدناس الجسم والنفس، فسمّاہم روحًا إظہارًا لجلالۃ شأنہم وطہارۃ جنانہم، وأنہم سیُلقَّبون بہذا اللقب فی یوم القیامۃ لیُرِیَ اللّٰہُ خَلْقَہ مقام انقطاعہم، ولیمیز بین الخبیثین والطیّبین۔ ولَعَمْر اللّٰہِ إن ہذا ہو الحق، فتدبَّروا فی کتاب اللّٰہ ولاؔ تنکروا مستعجلین۔ وأمّا عیسٰی اور وہ روح القدس کے بلائے بولتے تھے نہ اپنی خواہش سے اور گویا وہ روح القدس ہی ہوگئے تھے جس کے ساتھ نفس کی آمیزش نہیں پھر جان کہ انبیاء ایک ہی جان کی طرح ہیں۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کئی روح ہیں بلکہ کہنا چاہیئے کہ وہ ایک ہی روح ہے اور یہ اس لئے کہ ان میں روحانی طور پر نہایت درجہ پر اتحاد واقع ہے اور جوہر ایمانی کی ان میں مناسبت غایت مرتبہ پر ہے اور نیز اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اپنی جنبش اور اپنے سکون اور اپنی خواہشوں اور اپنے جذبات سے بکلی فنا ہوگئے اور ان میں بجز روح القدس کے کچھ باقی نہ رہا اور سب چیزوں سے توڑ کے اور قطع تعلق کرکے خدا کو جا ملے پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس آیت میں ان کے تجرد اور تقدس کے مقام کو ظاہر کرے اور بیان کرے کہ وہ جسم اور نفس کے میلوں سے کیسے دور ہیں پس ان کا نام اس نے روح یعنی روح القدس رکھا تاکہ اس لفظ سے ان کی شان کی بزرگی اور ان کے دل کی پاکیزگی کھل جائے اور وہ عنقریب قیامت کو اس لقب سے پکارے جائیں گے تاکہ خدا تعالیٰ لوگوں پر ان کا مقام انقطاع ظاہر کرے اور تاکہ خبیثوں اور طیبوں میں فرق کرکے دکھلاوے۔ اور بخدا یہی بات حق ہے پس تم کتاب اللہ میں تدبر کرو اور جلد بازی سے انکار مت کرو۔ مگر عیسیٰ