وأُشیر فی آیۃ ؂ إلی أنہ تعالٰی لا یعطی ہذا المقام المحمود إلّا نبیَّہ وصفیَّہ محمدًا نالمصطفی خیر الرسل وخاتم النبیین. وأُلقِیَ فی روعی أن المراد من لفظ الروح فی آیۃ یَومَ یَقُومُ الرُّوحُ جماعۃُ الرسل والنبیین والمحدَُّثین أجمعین الذین یُلقَی الروح علیہم ویُجعَلون مکلَّمین۔ وأما ذِکرہم بلفظ الروح لا بلفظ الأرواح، فاعلم أنہؔ قد یُذکَر الواحد فی القرآن ویراد منہ الجمع وبالعکس، سنّۃٌ قد جرتْ فی کتاب مبین. وذکرہم اللّٰہ بلفظ الروح الذی یدل علی الانقطاع من الجسم لیشیر إلی أنہم فی عیشتہم الدنیویۃ کانوا قد فنوا بکل قواہم فی مرضاۃ اللّٰہ، وخرجوا من أنفسہم کما یخرج الأرواح من الأبدان، وما بقی لہم النفس وأہواء ھا اس روز یعنی قیامت کے دن روح اور فرشتے کھڑے ہوں گے اور شفاعت کے بارے میں کوئی بول نہیں سکے گا مگر وہی جس کو خدا تعالٰے کی طرف سے اجازت ملے اور کوئی نالائق شفاعت نہ کرے اور آیت عسٰی ان یبعث میں اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ مقام محمود بجز اپنے برگزیدہ نبی محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو عنایت نہیں کرے گا اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس آیت میں لفظ روح سے مراد رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی جماعت مراد ہے جن پر روح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں مگر یہ شبہ کو روح کے لفظ سے ان کو یاد کیا ارواح کے لفظ سے کیوں یاد نہیں کیا۔ پس جان کہ قرآن کا محاورہ ایسا ہے کہ کبھی وہ واحد کے لفظ سے جمع مراد لے لیتا ہے اور کبھی جمع سے واحد ارادہ رکھتا ہے یہ قرآن شریف کی ایک عادت مستمرہ ہے۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو روح کے لفظ سے یاد کیا یعنی ایسے لفظ سے جو انقطاع من الجسم پر دلالت کرتا ہے یہ اس لئے کیا کہ تاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہ مطہر لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اپنی تمام قوتوں کی رو سے مرضات الٰہی میں فنا ہوگئے تھے اور اپنے نفسوں سے ایسے باہر آگئے تھے جیسے کہ روح بدن سے باہر آتی ہے اور نہ ان کا نفس اور نہ اس نفس کی خواہش باقی رہی تھیں