علیہ السلام فأنت تعلم أن القرآن لا یسمّیہ إلٰہًا ولا ابن إلٰہ، بل یبرّۂ مما قیل، ویردّ الأقاویل إفراطًا کانت أو تفریطًا ویقیم علیہ الدلیل، ویبیّن أنہ عبد ومن المقرّبین. وقال فی مقام واشترط قولَ الظالمین بلفظ مِن دونہ لیُخرِج بہ قومًا أصبی الحبُّ قلوبہم وہیّج کروبہم حتی غلبت علیہم المَحْوِیّۃُ والسُّکْر وجنونُ العاشقین، فخرجتْ من أفواہہم کلماتٌ فی مقام الفناء النظری والجذبات السماوی، و ورد علیہم وارد فکانوا من الوالہین؛ فقال بعضہم ما فی جُبّتی إلا اللّٰہ، وقال بعضہم إن یدی ہذہ ید اللّٰہ، وقال بعضہم أنا وجہ اللّٰہ الذی وجّہتم إلیہ، وأنا جنبُ اللّٰہ الذی فرّطتم فیہ، وقال بعضہم أنا أقول علیہ السلام کے بارہ میں تو تو خوب جانتا ہے کہ قرآن ان کا نام خدایا ابن خدا نہیں رکھتا بلکہ اس کو ان تمام قولوں سے بری کرتا ہے جو اس کے حق میں بڑھا کر یا گھٹا کر کہے گئے تھے اور دلائل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ بندہ اور مقرب الٰہی ہے۔ اور ایک مقام میں فرماتا ہے کہ عیسائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ یہ عزت دار بندے ہیں۔ اور جو ان میں سے یہ کہے کہ بدوں خدا کے میں بھی خدا ہوں سو ایسے شخص کی سزا جہنم ہوگی اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں اور قرآن نے جو ظالمین کے لفظ کے ساتھ من دونہ کی شرط لگا دی ہے اور کہا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ میں خدا کے سوا خدا ہوں سو یہ شرط من دونہ کی یعنی سوا کی اس واسطے لگائی ہے تا ان لوگوں کو ظالم ہونے سے مستثٰی رکھے جن کے دلوں کو ان کے دوست حقیقی نے اپنی طرف کھینچ لیا اور ان کے دلوں میں بے قراریاں پیدا کر دیں یہاں تک کہ ان کے دلوں پر محویت اور سکر اور عاشقوں ساجنون آگیا سوفنا نظری کی حالت اور جذب سماوی کے وقت میں ان کے منہ سے کچھ ایسی باتیں نکل گئیں اور بعض واردات ان پر ایسے وارد ہوئے کہ وہ عشق کی مستی سے بے ہوشوں کی طرح ہوگئے سو بعض نے اس مستی کی حالت میں کہا کہ میرے جبہ میں خدا ہی ہے اور کوئی نہیں اور بعض نے کہا کہ میرا یہ ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے اور بعض نے کہا کہ میں ہی وجہ اللہ ہوں جس کی طرف تم نے