بالقیامۃ ولہا کالعلامۃ، فإن اللّٰہ تعالٰی ذکر ہذہ القصۃ فی ذکر قصۃ الجنۃ ونعماۂا العامۃ، ثم صرح بتصریح آخر وقال ذٰلِکَ الْیَوْمُ
الْحَقُّ، ولفظ الیوم الحق فی القرآن بمعنی القیامۃ، ویعلمہ کلُّ خبیر أمین. فانظر کیف بیّن أنہا واقعۃ من وقائع یوم الدین، ثم انظرْ کیف یفترون الذین فی قلوبہم مرض ولا یخافون اللّٰہ وما کانوا متقین.
فالحاصل أن الآیۃ لا تؤیّد زعم ہذا الواشی بل تمزّقہ، وبہا یقع القول علیہ وتجعلہ الآیۃ من الکاذبین. فإنہ یقول إن عیسٰی إلٰہ وابن إلٰہ، ویقول إن الروح ہو اللّٰہ وعینہ، والآیۃ تبدی أن ہذا مَیْنُہ، وتبدی أن
الروح الذی ذُکر ہٰہنا ہو عبد عاجز تحت حکم اللّٰہ وقدرہ، وما کان لہ خِیَرَۃٌ فی أمرہ، وإن ہو إلا من الطائعین، وما کان لہ أن یشفع مِن غیر إذن اللّٰہ، لأن اللّٰہ عزّوجلّ قال فی ہذہ الآیۃ
متعلق ہے اور اس کے
لئے علامت کی طرح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو بہشت کے ذکر کے درمیان لکھا
ہے اور اس کی نعمتوں کے بیان کرنے کے وقت اس کو بیان فرمایا ہے اور پھر اور بھی تصریح کر کے
فرمایا ہے کہ یہ وہی حق کے کھلنے کا دن ہے اور الیوم الحق قرآن میں قیامت کا نام ہے چنانچہ واقف کار امانت دار اس کو جانتا ہے پس اب غور کر کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے کھول کر بیان کر دیا کہ یہ
واقعہ قیامت سے متعلق ہے پھر تو غور کر کہ وہ لوگ جن کے دل بیمار
ہیں اور ان کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں کیونکر افترا پردازیاں کر رہے ہیں اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔
پس
حاصل کلام یہ ہے کہ یہ آیت اس نکتہ چین کے زعم کی کچھ مؤ ّ ید نہیں بلکہ یہ تو اس کے قول کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے
اور اس کے ساتھ بات اسی پر پڑتی ہے اور یہ آیت اس کو جھوٹوں میں سے
ٹھہراتی ہے کیونکہ اس نکتہ چین کا یہ قول ہے کہ
عیسیٰ خدا اور خدا کا بیٹا ہے اور کہتا ہے کہ روح خدا کو ہی کہتے ہیں اور روح اور خدا ایک ہی ہے اور آیت ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اس کا
جھوٹ ہے اور نیز ظاہر کرتی ہے کہ وہ روح جس کا ذکر اس جگہ ہے وہ ایک بندہ عاجز ہے جس کو خدا کے کسی امر میں اختیار نہیں اور کچھ نہیں صرف فرمانبردار ہے اور نیز یہ بھی ظاہر کرتی
ہے کہ اس روح کو شفاعت کا اختیار نہیں اور شفیع وہی ہوگا جس کو اذن ملے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں صاف فرما دیا ہے کہ