ومنؔ اعتراضات الواشی الضال، الذی ینوم بنعاس الضلال، اعتراضٌ بنٰی علیہ عقیدتہ الباطلۃ فی کتابہ التوزین. وتفصیلہ أنّہ
رأی فی القرآن الکریم آیۃ 3 ۱،فتلقَّفَ لفظَ الروح کالشحیح، وأراد أن یستنبط منہ نزول المسیح، بل أن یثبت ألوہیتہ کالوقیح، فکتَبہ مستدلا کالمبطلین الفرحین.
أما الجواب فاعلم أن ہذہ الآیۃ لا
تفیدہ أصلًا ولا یثبت منہا شیء إلا حمقہ وجہلہ وکونہ من السفہاء المستعجلین۔ ولا یخفی علی الفضلاء الأعلام أن تأویل الروح بعیسی فی ہذا المقام دجلٌ وافتراء ، بل جاء فی کتب التفسیر أنہ جبرائیل علیہ
السلام، أو ملَکٌ آخر علی اختلاف الروایات کما لا یخفی علی الناظرین۔ ثم منطوق الآیۃ یبدی بالتصریح ویحکم بالتنقیح أن ہذہ الواقعۃ متعلقۃ
اور یہ گمراہ نکتہ چین جو خواب ضلالت میں سوتا ہے اس کے
اعتراضات میں سے ایک وہ اعتراض ہے جس کو اس نے اپنی کتاب توزین الاقوال میں اپنے عقیدہ باطلہ کی بنیاد ٹھہرایا ہے اور تفصیل اعتراض یہ ہے کہ اس نے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کو دیکھا
جو یوم یقوم الروح والملا ئکۃ ہے الخ۔ سو اس نے لفظ روح کو اس جگہ سے اچک لیا جیسے ایک حریص ایک چیز کو اچک لیتا ہے اور چاہا کہ اس سے نزول مسیح پر دلیل قائم کرے بلکہ بے حیائی کی
وجہ سے یہ بھی چاہا کہ اس سے حضرت مسیح کی الوہیت ثابت ہو جائے پس اس نے استدلال کے خیال سے باطل پرستوں کی طرح بہت خوش ہوکر اس آیت کو لکھا۔
اب اس کے جواب میں سمجھ
کہ یہ آیت اس شخص کو کچھ بھی مفید نہیں اور اگر اس سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہی کہ یہ شخص احمق اور نادان اور سفیہ اور جلد باز ہے اور مشاہیر
علماء پر پوشیدہ نہیں کہ اس مقام میں
روح کے لفظ سے عیسیٰ مراد لینا دجالیت اور
افترا ہے بلکہ تفسیروں کی رو سے وہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشتہ
ہے اور دونوں قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں
پر پوشیدہ نہیں۔ پھر منطوق
آیت کا بتصریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت سے