عریفٌ فرسُ نفسی عند حرب ویدری السرّ مِن شدّ البِطانِ میرے نفس کا گھوڑا لڑائی کے وقت بڑی فراست رکھتا ہے اور تنگ کو مضبوط کھینچنے سے سمجھ جاتا ہے کہ مطلب کیا ہے مِکَرٌّ ینزلنّ کمثل برق ولا تمضی علیہ دقیقتانِ بڑا حملہ آور ہے جو برق کی طرح اترتا ہے اور دو منٹ کی بھی توقف نہیں کرتا وإنا سوف نُوجَرُ مِن ملیکٍ ونُعطَی منہ أجرَ الامتشانِ اور ہم عنقریب اپنے بادشاہ سے پاداش پائیں گے اور اس سپاہیانہ خدمت کا اجر ہم کو دیا جائے گا وکأسٍ قد شربنا فی وِہادٍ وأخری نشرَبنْ فوق القِنانِ کئی پیالے تو ہم نے نشیب میں پیئے اور کئی اور ہیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پئیں گے وہذا کلہ مِن فضل ربّی ملاذی عاصمی ممّن جفانی اور یہ سب میرے رب کا فضل ہے جو میری پناہ ہے اور ظالم سے مجھے بچانے والا ہے أری أشجار رحمتہ عِظامًا مفرِّحۃً کزرع الزعفرانِ اس کی رحمت کے درختوں کو میں بڑے بڑے دیکھتا ہوں خوش کرنے والے جیسے زعفران کا کھیت ہوتا ہے وقومی کفّرونی مِن عناد وإلحادٍ وتحریف البیانِ اور میری قوم نے مجھے عناد سے کافر ٹھہرایا اور الحاد اور تحریف سے کافر بنانے میں کوشش کی فیا لَعّانِ لا تہلَکْ عَجولًا ولا تہجُرْ فترجِعْ کالمُہانِ پس اے *** کرنے والے میرے ، جلدی سے ہلاک مت ہو اور مسلمانوں کو اپنے گروہ سے جدا نہ کر کہ اس میں تیری رسوائی ہے ووشکُ البَین صعبٌ عند حُرٍّ وإن الحرّ کالحانی یقانی اور جلد جدا ہو جانا شریف آدمی کے نزدیک ایک سخت بات ہے اور شریف آدمی ایک مشفق مہربان کی طرح ملتا ہے ولا تعجَبْ لقولی وادّعائی وقد عُلّمتُ مِن أخفی المعانی اور میرے قول اور میرے دعویٰ سے تعجب مت کر اور مجھے بہت پوشیدہ معنے بتلائے گئے ہیں وللرّحمٰن فی کلِمٍ رموزٌ وکم قولٍ أسرَّ کمثل کانی اور خدا تعالیٰ اپنے کلمات میں کئی بھید رکھتا ہے اور کئی قول اس کے ایسے ہیں جیسے کوئی اشارہ کنایہ سے باتیں کرتا ہے