سُقوا کأس المنایا ثم سیقوا إلی نارٍ تلوِّحُ وجہَ جانی موت کے پیالے ان کو پلائے گئے اور پھر وہ اس آگ کی طرف کھینچے گئے جو مجرم کا منہ جلاتی تھی فہذا أجرُ جہل الجاہلینا من الرحمن عند الاستنانِ سو یہ جاہلوں کے جہل کی سزا تھی یہ سزا خدا تعالٰے کی طرف سے اس وقت ہوئی جب انہوں نے فسادوں اور ظلموں میں دوڑنا اختیار کیا وما کان الرحیم مُذِلَّ قومٍ ولکن بعد ظلم وافتنانِ اور خدائے رحیم کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا مگر اس وقت جبکہ ظلم اور فتنہ اندازی اختیار کرے وہل حُدِّثتَ مِن أنباء أممٍ رأوا قبحًا بأفعالٍ حِسانِ کیا ایسی قوموں کی تجھے کچھ خبر ہے جن کو نیکی کرتے کرتے بدی پیش آئے وکل النور فی القرآن لٰکنْ یمیل الہالکون إلی الدخانِ اور تمام اور ہریک قسم کے نور قرآن ہی میں ہیں مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں بہ نلنا تُراثَ الکاملینا بہ سِرْنا إلی أقصی المعانی ہم نے اس کے وسیلہ سے کاملوں کی وراثت پائی ہم نے اس کے وسیلہ سے حقیقتوں کے اخیر تک سیر کیا فقُمْ واطلُبْ معارفہ بجہدٍ وخَفْ شرَّ العواقب والہوانِ پس اٹھ اور کوشش کے ساتھ اس کے معارف طلب کر اور انجام بد اور ذلت کی بدیوں سے خوف کر أتخطُب عزّۃَ الدنیا الدنیّۃْ أتطلب عیشہا والعیش فانی کیا تو اس دنیا ناکارہ کی عزتوں کا طالب ہے کیا تو اس دنیا کے عیشوں کو ڈھونڈتا ہے اور اس کے تمام عیش فانی ہیں أترضی یا أخی بالخان حمقًا وتنسٰی وقت تبدیل المکانِ اے بھائی کیا تو سرائے میں رہنے میں اپنے حمق سے راضی ہوگیا اور اس وقت کو بھلا دیا جو تبدیل مکانی کا وقت ہے علٰی بُستان ہذا الدہر فأسٌ فکم شجر یجاح من الإہانِ اس دنیا کے باغ پر تبر رکھا ہے سو بہت سے درخت جڑ سے اکھیڑے جارہے ہیں وکمؔ عنقٍ تکسّرہا المنایا وکم کفٍّ وکم حسنِ البنانِ اور موتیں بہت سی گردنوں کو توڑ رہی ہیں اور بہت ہتھیلیاں اور بہت سے خوبصورت پوریں ٹوٹی چلی جاتی ہیں