فمِن عجبٍ أکبّوا مثلَ مَیْتٍ
وقد مرَنوا علی لطف البیانِ
سو یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ مردہ کی طرح منہ کے بل جا
پڑے
حالانکہ وہ فصیح کلمات کی مشق اور عادت رکھتے تھے
وأنزلَہ مہیمنُنا حُدَیًّا
ففرّوا کلہم کالمستہانِ
اور خدا تعالیٰ نے اس کو بے مثل اور طالب معارض نازل کیا
پس کفار اس کی
مثل بنانے پر قادر نہ ہوسکے اور سر گردان ہوکر بھاگ گئے
وصارت عُصْبُہم فِرقًا ثُبَینًا
فمنہم من أتی بعد الحِرانِ
اور ان کی جماعتیں کئی فرقے متفرق ہو گئے
پس بعض ان میں سے تو
سرکشی سے باز آگئے
ومنہم من تلبّبَ مستشیطًا
لحرب الصادقین وللطّعانِِ
اور بعض نے قرآن کے مقابلہ سے عاجز آکر ہتھیار باندھے
اور غضب میں آکر راستبازوں کے ساتھ جنگ کرنے
کے لئے تیار ہوگئے
فأنتم قد سمعتم ما أصیبوا
بضعضعۃ السیوف من الہوانِ
سو تم سن چکے ہو کہ ان کو کیا کیا سزائیں ملیں
اور تلواروں کی سرکوبی سے کیسی ذلت اٹھائی
وکان جزاء سَلِّ
السّیف سَیْفًا
فذاقوا ما أذاقوا کالجبانِ
اور تلوار کھینچنے کا بدلہ تلوارہی تھی سو جو کچھ انہوں نے مسلمانوں کو
چکھایا وہ آپ ہی بزدل ہوکر چکھنا پڑا یعنی تلوار کھینچنے والے تلو ارسے ہی
مارے گئے
إذا دارت رحی البلوی علیہم
فکانوا لُہْوَۃً فوق الدِّہانِ
اور جبکہ سختی کی چکی ان پر چلی سو ایسے ہوگئے
جیسا کہ آٹے کی ایک مٹھی چکی کے اس سرخ چمڑے پر ہوتی ہے جو
چکی کے نیچے بچھایا جاتا ہے
فطفقوا یہربون کمثل جُبنٍ
فأُخذوا ثم قُتلوا مثل ضانِ
سو انہوں نے ایک نامرد کی طرح بھاگنا شروع کیا
پس پکڑے گئے اور بھیڑوں کی طرح قتل کئے گئے
إذا
ما شاہدوا قتلَی کقُنَنٍ
فرفعوا طاعۃً عَلَمَ الأمانِ
اور جبکہ انہوں نے اپنے مقتولوں کو ٹیلوں کی طرح دیکھا
تب انہوں نے امان طلب کرنے کے لئے جھنڈیاں اٹھائیں
سرؔ اۃُ الحیّ جاء وا
نادمینا
فرحِم المصطفٰی بحرُ الحنانِ
اور قبیلہ کے سردار شرمندہ ہوکر آئے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
جو دریائے بخشش ہے ان کا گناہ معاف کیا
وأمّا الجاہلون فما أطاعوا
فأعدمَہم
فؤوسُ الاحتفانِ
مگر جاہلوں نے ان کا حکم نہ مانا
سو بیخ کنی کے تبروں نے ان کو معدوم کیا