وما أدراک ما القرآن فیضًا خفیرٌ جالبٌ نحو الجِنانِ اور تو کچھ جانتا ہے کہ قرآن فیض کے رو سے کیا شے ہے وہ ایک راہبر ہے جو بہشت کی طرف کھینچتا ہے لہ نورانِ نورٌ من علوم ونورٌ من بیان کالجُمانِ اس میں دو نور ہیں ایک تو علوم کا نور اور دوسرے فصاحت اور بلاغت کا نور جو دانہ نقرہ کی طرح چمکتا ہے کلامٌ فائق ما راقَ طرفی جمالٌ بعدہ والنَّیِّرانِ وہ ایک ایسا کلام ہے جو ہریک کلام سے فوقیت لے گیا اور اس کے بعد مجھے کوئی جمال اچھا معلوم نہ ہوا اور آفتاب اور قمر بھی اچھے دکھائی نہ دئے أَیاۃُ الشمس عند سَناہ دَخْنٌ وما لِلَّعْلِ والسِبْت الیمانی آفتاب کی روشنی اس کی چمک کے آگے ایک دھواں سا ہے اور لعل سے نری کے سرخ چمڑے کو نسبت ہی کیا ہے گو یمن کی ساخت ہو وأین یکون للقرآن مِثلٌ ولیس لہ بہذا الفضل ثانی اور قرآن کی مثال کوئی دوسری چیز کیوں کر ہو کیونکہ وہ تو اپنے فضائل میں بے مثل ہے ورِثنْا الصُّحْفَ فاقتْ کلَّ کُتْبٍ وسبقتْ کلَّ أسفارٍ بشانِ ہم اس کتاب کے وارث بنائے گئے جو سب کتابوں پر فائق ہے ایسی کتاب جو اپنے کمالات میں تمام کتابوں پر سبقت لے گئی ہے وجاء ت بعد ما خرّتْ خیامٌ وخُرِّبت البیوت مع المبانی اور اس وقت آیا جب کہ سب پہلے خیمے منہ کے بل گر چکے تھے اور تمام گھر مع بنیاد کی جگہوں کے خراب ہو چکے تھے محَتْ کلَّ الطرائق غیرَ بِرٍّ وجذّتْ رأسَ بدعات الزمانِ ہریک راہ کو بغیر نیکی کے راہ کے معدوم کر دیا اور ان تمام بدعتوں کا سر کاٹ دیا جو زمانہ میں شائع تھیں کأنّؔ سیوفہا کانت کنارٍ بہا حُرقتْ مَخاریق الأدانی گویا اس کی تلواریں ایک آگ کی طرح تھیں ان سے وہ تمام گد کے جل گئے جو سفلہ لوگوں کے ہاتھ میں تھے إذا استدعی کتابُ اللّٰہ مثلًا فعَیَّ القومُ واستتروا کفانی جب کتاب اللہ نے اپنی مثل کا مطالبہ کیا سو قوم مقابلہ سے عاجز ہوگئی اور فنا شدہ چیز کی طرح چھپ گئی و سُلبتْ جرأۃُ الإسناف منہم مِن الہول الذی حلّ الجَنانِ اور پیش قدمی کی ہمت ان سے مسلوب ہوگئی اور یہ ہیبت الٰہی تھی جو ان کے دل میں بیٹھ گئی