یکفّروننا ویکفّرون کلَّ من خالفہم من المسلمین فی أدنٰی أمر ولو فی بعض مسائل الاستنجاء ، ویَدُعُّون المسلمین بأیدیہم ویریدون أن یُقلّلوا الإسلام۔ ویرون بأعینہم أن النصاری قد غلبوا وکثر مذہبہم وامتد إلی أقطار الأرض، وہم ینسلون من کل حدب، واتخذوا العبدَ العاجز إلہًا، ونحتوا ابنًا وأبًا، ورسَوا علی خزعبلا تہم أمثالَ الجبال والرُّبی۔ وعلماؤنا ہؤلاء عقدوا لجہلا تہم الحُبی، وصارت کلماتہم لزہرِ فِرْیتِہم کالصبا، وجمعوا روایاتٍ واؔ ہیۃ کحاطب لیل أو طالب سیل، ونصروا النصاری بکلماتہم، وقالوا إن المسیح منفرد ببعض صفاتہ، وما وُجد فیہ من کمال وجلال وعظمۃ فہو لا یوجد فی غیرہ۔ إنہ کان علی أعلی مراتب العصمۃ، ما مسَّہ الشیطان عند تولُّدہ، ومسَّ غیرَہ من الأنبیاء کلّہم، ولا شریک لہ ہمیں کافر ٹھہراتے ہیں اور نہ صرف ہمیں بلکہ ہریک مسلمان ان کے نزدیک کافر ہے جبکہ وہ ایک ادنیٰ بات میں بھی ان کا مخالف ہو اگرچہ کسی استنجاء کے مسئلہ میں ہی اختلاف ہو مسلمان کو دھکے دے دے کر دین سے باہر نکالتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام بہت کم رہ جائے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ نصاریٰ غالب آ گئے اور ان کا مذہب زمین پر بہت بڑھ گیا اور زمین کے کناروں تک پھیل گیا اور ہریک بلندی انہیں کے حصہ میں آگئی اور ایک عاجز بندہ کو انہوں نے خدا ٹھہرایا اور اپنی طرف سے باپ اور بیٹا تراش لیا اور اپنی باطل باتوں پر پہاڑوں اور ٹیلوں کی طرح استحکام پکڑ گئے اور یہ ہمارے مولوی لوگ ان کے آگے ان کی باطل باتوں کے سننے کے لئے زانو باندھ کر بیٹھ گئے اور ان کی باتیں عیسائیوں کے شگوفوں کے لئے باد صبا کے حکم میں ہو گئیں اور بے ہودہ اور سست روائتیں انہوں نے جمع کیں جیسے کوئی رات کو ہر ایک قسم کی خشک تر لکڑی جمع کرتا ہے یاجیسے کوئی طوفان کا طالب ہوتا ہے اور انہوں نے نصاریٰ کو اپنی باتوں سے مدد دی جیسا کہ انہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم اپنی بعض صفات میں بے مثل ہے اور جو کمال اور بزرگیاں اس میں پائی جاتی ہیں اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں وہ ہی ایک ہے جو اعلیٰ درجہ پر گناہوں سے پاک ہے شیطان نے اس کی پیدائش کے وقت اس کو ُ چھؤا نہیں اور بجز اس کے سب نبیوں کو چھوا اور کوئی شیطان کے مس سے بچ