فی ہذہ الصفۃ حتی خاتم النبیین۔ وقالوا إنہ کان خالق الطیور کخلق اللّٰہ تعالٰی، وجعلہ اللّٰہ شریکہ بإذنہ، والطیور التی توجد فی ہذا
العالم تنحصر فی القسمین خَلْق اللّٰہ وخَلْق المسیح۔ فانظر کیف جعلوا ابن مریم من الخالقین۔ ویُشیعون فی الناس ہذہ العقائد ولا یدرون ما فیہا من البلایا والمنایا، ویؤیّدون المتنصِّرین۔ وہلک بہا إلی الآن ألوف من
الناس ودخلوا فی الملّۃ النصرانیۃ بعد ما کانوا مسلمین۔ وما کان فی القرآن ذکرُ خَلْقہ علی الوجہ الحقیقی، وما قال اللّٰہ تعالٰی عند ذکر ہذہ القصۃ فیصیر حیًّا بإذن اللّٰہ، بل قال 33، ۱ فانظروا لفظ ’’
فیَکُونُ‘‘ ولفظ ’’طَیْرًا‘‘، لِمَ اختارہما العلیم الحکیم وترک لفظ ’’یصیر‘‘ و ’’حیًّا‘‘؟ فثبت من ہہنا أنؔ اللّٰہ ما أراد ہٰہنا خلقًا حقیقیا کخلقہ عزّوجل۔ و یؤیّدہ ما جاء فی کتب
نہ سکا مگر ایک
مسیح اور اس صفت میں نبیوں میں سے اس کا کوئی بھی شریک نہیں یہاں تک کہ خاتم الانبیاء بھی۔ اور خداتعالیٰ کی طرح وہ پرندوں کا بھی خالق تھا اور خدا تعالیٰ نے اپنے اذن سے اس کو اپنا شریک
بنایا۔ سو وہ سب پرندے جو
دنیا میں پائے جاتے ہیں دو قسم کے ہیں کچھ خدا کی پیدائش اور کچھ مسیح کی سو دیکھو کیوں کر
ابن مریم کو خالق بنا دیا۔ اور لوگوں میں یہ عقائد شائع کرتے ہیں اور
نہیں جانتے کہ
ان عقیدوں میں کیا کیا بلائیں اور موتیں ہیں اور نصاریٰ کو مدد پہنچا رہے ہیں۔ اور ان عقائد کی شامت سے اب تک
ہزاروں انسان ہلاک ہو چکے اور نصرانی مذہب میں داخل ہوگئے
بعد اس کے جو وہ مسلمان تھے۔
اور قرآن میں مسیح کے پرندے بنانے کا ذکر حقیقی طور پر کہیں بھی نہیں اور خدا نے اس
قصہ کے ذکر کرنے کے وقت یہ نہیں فرمایا کہ فیصیر حیا باذن اللّٰہ
بلکہ یہ فرمایا کہ فیکون طیراباذن اللّٰہ
سو لفظ فیکون اور لفظ طیرا میں غور کرو کہ کیوں اس علیم حکیم نے انہیں
دونوں لفظوں کو اختیار کیا اور لفظ فیصیر حیا کو چھوڑ دیا سو اس جگہ ثابت ہوا
کہ اس جگہ خدا تعالیٰ عزّوجلّ
کی مراد حقیقی خلق نہیں ہے اور وہ خالقیت مراد نہیں ہے جو اس کی ذات سے مخصوص ہے اور اس کی تائید وہ بیانات