وما خالفْنا المکفّرین إلّا فی وفاۃ عیسی ابن مریم علیہ السلام، فاغتاظوا غیظا شدیدا، ومُلؤا منہ کأنہم لا یؤمنون بآیۃ 333،۱ ولا
یؤمنون بوعدؔ الوفاۃ الذی قد صُرّح فیہا، وکأنہم لا یعرفون آیۃ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنی التی فیہا إشارۃ إلی إنجاز ہذا الوعد ووقوع الموت۔ والآیات بیّنۃ منکشفۃ، فلعلّہم فی شک من کتاب مبین، فنبذوا کتاب اللّٰہ وراء
ظہورہم بعدما کانوا مؤمنین۔
وتعجّبتُ۔ ولا تعجُّبَ مِن ختم اللّٰہ وإضلالہ۔ أن أکثر علماء ہذہ الدیار فسدوا حتی عُطّلت حواسّہم، وسُلبت عقولہم، وغُمرت مدارکہم، وکُدّرت آراؤہم، وغُشیت أعینہم۔ فیا عجبًا
لفعل اللّٰہ وقہرہ کیف أخَذ کلَّ ما کان عندہم من البصیرۃ والمعرفۃ والدرایۃ، وترکہم فی ظلماتٍ لا یبصرون۔ لا یأخذہم رِقّۃٌ علی مصائب الإسلام
اور جن لوگوں نے ہمیں کافر ٹھہرایا ان سے ہم صرف
اسبات میں ان کے مخالف ہیں کہ ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کی وفات
کے قائل ہیں وہ لوگ بہت غضبناک ہوئے اور غصہ سے بھر گئے گویا انہیں اسبات پر کچھ ایمان نہیں کہ اے عیسٰے
میں
تجھے وفات دوں گا اور نہ وعدہ وفات پر ایمان ہے جس کی اس آیت میں تصریح ہے اور گویا وہ لوگ اس آیت کو بھی پہچانتے نہیں جس میں حضرت عیسٰی کا اقرار ہے کہ تو نے مجھے وفات
دی یہ وہی آیت فلما توفیتنی ہے جس میں اس وعدہ موت کے پورے ہونے کی طرف اشارہ ہے جو آیت انی متوفیک میں ہو چکا تھا آیات کھلے کھلے ہیں مگر شاید یہ لوگ قرآن پر یقین نہیں رکھتے اور شک
میں ہیں اور کتاب اللہ کو انہوں نے ایمان لانے کے بعد اپنی پس پشت پھینک دیا ہے۔
اور میں نے تعجب کیا اور خدا کے قہر اور اس کے گمراہ کرنے سے کچھ تعجب بھی نہیں کہ اس ملک کے
اکثر
مولوی بگڑ گئے یہاں تک کہ ان کے حواس بے کار اور معطل ہوگئے اور ان کی عقلیں مسلوب ہو گئیں اور ان کی
دماغی قوتیں گم ہوگئیں اور ان کی راؤ ں پر تاریکی چھا گئی اور آنکھوں پر
پردے پڑ گئے سو دیکھو خدا کا کام اور
اس کا قہر کس طرح سے اس نے ان کی بصیرت اور معرفت اور دانائی لے لی
اور ان کو اندھیرے میں چھوڑ دیا ان کا دل اسلام کی مصیبتیں دیکھ کر کچھ
بھی نرم نہیں ہوتا