ألا یا أیہا اللِّحْزُ الشحیحُ ہوَیتَ کذی اللُّبانۃ فی الہوانِ اے بخیل بد خلق اور حریص تو محتاجوں کی طرح ذلت کے گڑھے میں گر گیا وما تدری الہدی وحملتَ جہلًا أناجیلَ النصاری کالاَ تانِ اور تو نہیں جانتا کہ ہدایت کیا شے ہے اور محض جہل سے تو نے انجیلوں کو اٹھا لیا جیسا کہ ایک گدھی بھار اٹھاتی ہے تُنَضْنِضُ مثلَ نضنضۃ الأفاعی وتہذی مثل عادات الأدانی اور تو اس طرح زبان ہلاتا ہے کہ جیسے سانپ اور کمینوں اور سفلوں کی طرح بکواس کرتا ہے ہَلُمّ إلی کتاب اللّٰہ صدقًا وإیمانًا بتصدیق الجنانِ خدا کی کتاب کی طرف صدق اور دلی ایمان سے آجا شُغِفتم أیہا النُّوکَی بشوکٍ وأعرضتم عن الزہر الحِسانِ بے وقوفو ! تم کانٹوں پر فریفتہ ہو گئے اور خوبصورت پھولوں سے کنارہ کیا وآثرتم أماعِزَ ذاتَ صخرٍ علی مُخضرّۃٍ قاعٍ ہِجانِ اور تم نے کنکریوں اور بڑی پتھروں والی زمین جو بہت سخت ہے اختیار کی اور ایسی زمین کو چھوڑا جو پُر سبزہ اور نرم اور نہایت عمدہ اور قابل زراعت ہے وما القرآن إلّا مثلَ دُرَرٍ فرائدَ زانَہا حسنُ البیانِ اور قرآن درحقیقت بہت عمدہ اور یکدانہ موتیوں کی طرح ہے جو حسن بیان سے اور بھی اس کی زینت اور خوبصورتی نکلی ہے ؔ وما مسّتْ أکفُّ الکاشحینا معارفَہ التی مثل الحَصانِ اور دشمنوں کی ہتھیلیاں ان معارف کو چھوئی بھی نہیں جو قرآن میں ایسے طور پر چھپی ہوئی ہیں جیسے پردہ نشین پارسا عورت چھپی ہوئی ہوتی ہے بہ ما شئتَ مِن علم وعقل وأسرارٍ وأبکار المعانی اس میں ہریک وہ علم اور عقل ہے جس کا تو طالب ہے اور انواع اقسام کے بھید اور نئی صداقتیں اس میں بھری ہیں یُسکِّت کلَّ مَن یعدو بضغنٍ یبکّت کلَّ کذّاب وجانی ہر یک ایسے دشمن کا منہ بند کرتا ہے جو مخالفانہ طور پر دوڑ پڑتا ہے اور ہر ایک ایسے شخص پر اتمام حجت کرتا ہے جو دروغ گو اور گناہ گار ہے رأینا دَرَّ مُزْنتِہ کثیرًا فدَینا ربَّنا ذا الامتنانِ ہم نے اس کے مینہ کا پانی بہت ہی دیکھا ہے سو ہم اس خدا پر قربان ہیں جس نے ایسے احسان کئے