أخذْنا السبَّ منہم مثلَ دَینٍ وعزّتُنا لدیہم کالرِّہانِ ان کی گالیاں ہمارے ذمہ قرض کی طرح ہیں اور ہماری عزت ان کے پاس گرو کی طرح ہے سنَغْشاہم ببرہان کعَضْبٍ رقیقِ الشفرتین أَخِ السنانِ ہم عنقریب دلیل کی تلوار کے ساتھ ان کے سر پر پہنچیں گے جو باریک کناروں والے نیزہ کا بھائی ہے بفأسٍ نختلی تلک الخَلا تا ورمحٍ ذابلٍ وقَنا البیانِ ہم اس گھاس کو دلائل کے تبر کے ساتھ کاٹیں گے اور نیز برچھی باریک نوک والی اور بیان کے نیزوں سے بِجمجمۃ العدا قد حلَّ غُولٌ فنُخرجہ بآیات المثانی ان دشمنوں کی کھوپڑی میں ایک بھوت داخل ہوگیا ہے سو ہم اس کو سورۃ فاتحہ سے نکالیں گے لنا دین ودنیا للنصاری ومَقْتُ الضرّتین من العِیانِ ہمارے حصہ میں دین آیا اور نصاریٰ کے حصہ میں دنیا سو یہ دو سوتوں کی دشمنی ہے جس کی حقیقت ہریک کے چشم دید ہے سئمنا کلَّ نوعِ الضیم منہم ولکن سَبَّہم صلَّی جنانی ہم نے ہر یک ظلم ان کا اٹھا لیا مگر ان کی گالیوں نے ہمارا دل جلایا سعواؔ أن یجعلوا أسدًا نِعاجًا ولیثُ اللّٰہ لیثٌ لا کضانِ انہوں نے کوشش کی کہ تاکسی طرح شیروں کو بھیڑیں بنائیں اور شیر شیر ہی ہیں وہ بھیڑ کی طرح نہیں ہو سکتے ووَثْبَتُہم کسِرْحانٍ ضَرِیٍّ وصورتہم کذی حُبٍّ مُقانِ اور ان لوگوں کا حملہ اسی بھیڑیئے کی طرح ہے جو شکار کا طالب ہے اور صورت ان کی ایک ملنسار دوست کی طرح ہے وباطنہم کجوف العَیر قَفْرٌ من التقوی وبطنٌ کالجِفانِ اور اندر ان کا گدھے کے پیٹ کی طرح تقویٰ سے خالی اور پیٹ ان پیالوں کی طرح ہے جو کھانے سے بھرے ہوئے ہوں أری وَغْلًا جَہولًا وابنَ وَغْلٍ یُرِی کالمرہَفات لَظَی اللسانِ میں ایک خسیس ابن خسیس جاہل کو دیکھتا ہوں جو تیز تلواروں کی طرح اپنی زبان کا شعلہ دکھاتا ہے ہریرُ الکلب لا یحثو بنبحٍ علی البدر المطہَّر مِن عُثانِ کتے کی آواز اس چاند پر خاک نہیں ڈال سکتی جس کو خدا نے گردوغبار اور دھوئیں سے پاک پیدا کیا ہے