عِمایات الرجال تزید منہم
وفتن الدہر تنمو کل آنِ
لوگوں میں ان کے سبب سے گمراہی پھیلتی جاتی ہے
اور فتنے دم بدم
بڑھتے جاتے ہیں
وما من ملجأ من دون ربٍّ
کریم قادرٍ کہف الزمانِ
اور ان آفتوں سے بچنے کے لئے بجز اس خدا کے کوئی گریز گاہ نہیں
جو کریم اور قادر اور زمانہ کی پناہ ہے
فنشکو
ہاربین من البلایا
إلی اللّٰہ الحفیظ المستعانِ
سو ہم ان بلاؤں سے بھاگ کر اسی خدا کی طرف شکایت لے جاتے ہیں
جو اپنے بندوں کا نگہبان اور بے قراروں کی مدد کرنے والا ہے
جرتْ حزنًا
عیونٌ من عیونی
بما شاہدتُ فتنًا کالدخانِ
میری آنکھوں سے مارے غم کے چشمے بہ نکلے
جبکہ میں نے ان فتنوں کا مشاہدہ کیا جو دھوئیں کی مانند اٹھ رہے ہیں
فہل وجدتْ ثکالٰی مثلَ
وجدی
أذًی أم ہل لہا شأن کشانِی
پس کیا وہ عورتیں جن کے لڑکے مر جائیں ایسا غم کرتی ہیں جو میں کرتا ہوں
کیا دکھ کے وقت ان کا ایسا حال ہوتا ہے جو میرا حال ہے
و ؔ کم من ظالم یبغی
فسادًا
وقسیسین أصل الافتنانِِ
بہتیرے ظالم یہی چاہتے ہیں جو دنیا میں فساد اور گناہ پھیلے
اور توحید میں فتنہ اندازی کی جڑ پادری لوگ ہیں
تفاحُشہم تجاوزَ کل حدّ
کأن غذاء ہم فحشُ
اللسانِ
پادریوں کی بدگوئی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے
گویا بدزبانی ان کی غذا ہے۔
فکنتُ أطالعَنَّ کتابَ سابٍّ
وتمطُر مُقْلَتی مثل الرَّثانِ
میں نے ایک ایسے شخص کی پادریوں میں سے کتاب
دیکھی جس نے گالیاں دی ہیں
سو میں اس کتاب کو دیکھتا تھا اور میری آنکھوں سے مینہ کی طرح آنسو جاری تھے
رأینا فیہ کلِمًا مُحفِظاتٍ
وسبَّ المصطفٰی بحرَ الحنانِِ
ہم نے اس کتاب میں وہ
کلمے دیکھے جو غصہ دلانے والے تھے
اور دیکھا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلعم کو گالیاں نکالی ہیں جو بخشائش کا دریا ہے
صبرتُ علیہ حتی عِیلَ صبری
ونار الغیظ صارت فی
جَنانی
میں نے اس بات پر صبر کیا یہاں تک کہ صبر کرتا کرتا ہار گیا
اور غصہ کی آگ مجھ میں بھڑکی
وتأتی ساعۃٌ إن شاء ربی
أُقِرُّ العینَ بالخصم المُہانِ
اور وہ گھڑی آتی ہے کہ انشاء
اللہ تعالیٰ
ہم دشمن کی رسوائی دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے