إلی الدنیا أوَی حزبُ الأجانی وحسبوہا جَنًی حُلْوَ المجََانی ان لوگوں نے جو بہت ہی گناہوں میں مبتلا ہیں دنیا کو اپنا جاپناہ قرار دیا ہے اور دنیا کو ایک شیریں اور سہل الحصول میوہ سمجھ لیا ہے نسوا مِن جہلہم یوم المعادِ وترکوا الدین مِن حُبّ الدِّنانِ اپنی نادانی کے سبب سے معاد کے دن کو بھلا دیا ہے اور شراب کے خموں سے پیار کر کے دین کو چھوڑدیا ہے تراہم مائلین إلی مُدامٍ وغِیدٍ والغوانی والأغانی تُو دیکھتا ہے کہ شراب کی طرف یہ لوگ جھک گئے اور ایسا ہی نازک اندام اور حسین عورتیں اور گیت انکے دلوں کو کھینچتے ہیں وکمْ منہم أساری عَینِ عِینٍ ومشغوفین بالبِیض الحِسانِ اور بہتیرے ان میں سے بڑی بڑی آنکھوں والی عورتوں کے قیدی ہیں اور بہتیرے سفید رنگ عورتوں کے فریفتہ ہیں لہنَّ ؔ علی بعولتہن حُکمٌ تری کُلاًّ کمنطلق العِنانِ وہ عورتیں اپنے خاوندوں پر حکم کرتی ہیں اور سب مطلق العنان اور بے پردہ اور شراب خوار ہیں دماء العاشقین لہنَّ شغلٌ بعینٍ أخجلتْ ظَبْیَ القِنانِ اپنے عاشقوں کو قتل کرنا اِن عورتوں کا کام ہے آلہ قتل اُنکی آنکھ ہے جو پہاڑوں کے ہرنوں کو شرمندہ کرتی ہے ومِن عَجَبٍ جفونٌ فاتراتٌ أرینَ الخَلْق أفعالَ السّنانِِ اور تعجب تو یہ ہے کہ وہ پلکیں جو سست اور نیم خواب ہیں لوگوں کو برچھیوں کا کام دکھلا رہی ہیں بناظرۃٍ تصید الناسَ لمحًا تفوق بلحظہا رُمْحَ الطِّعانِ وہ عورتیں اپنی آنکھ کی نیم نگاہ سے لوگوں کو شکار کرتی ہیں جن کے گوشہ چشم کی ہلکی سی نظر نیزوں کے زخم پر فوقیت رکھتی ہے وأَنَّی الأمن من تلک البلایا سوی اللّٰہ الذی مَلِکِ الأمانِ اور ان بلاؤں سے نجات پانا لوگوں کے لئے غیر ممکن ہے بجز اس کے کہ اس خدا کا رحم ہو جو امان بخشنے کا بادشاہ ہے فعشّاق الغوانی والمثانی أضاعوا الدین مِن تلک الأمانی سو جو لوگ عورتوں اور سرودوں کے عاشق ہیں انہوں نے انہیں آرزوؤں کے پیچھے دین ضائع کیا ہے یصُدّون الوری مِن کل خیرٍ ویغتاظون من تخلیصِ عانی لوگوں کو وہ ہر یک نیکی کے کام سے روکتے ہیں اور اس بات سے غصہ کرتے ہیں کہ کسی قیدی کو رہا کر دیا جائے