للمفاضِح، وتُعرِضون عن نصاحۃ الناصح، وتسبّون مشتعلین؟ ما لکم لا تتنبہون علی ہذا ولاؔ تخافون، ولا تدمع أجفانکم ولا یبدأ رجفانکم ولا تتوبون متندّمین؟ ألا ترون أنکم أغربتم وشذذتم فی ہذہ العقائد، وترکتم الأصل وتمایلتم علی الزوائد، وخالفتم الأوّلین والآخرین؟ لِم لا تسمعون قول الداعی ولا تتبعون الراعی، بل تلدغون کالأفاعی، وتثِبون کالذئب الساعی، وتمشون صُمًّا بکمًا عمیًا متکبرین مغرورین؟ وإنما مثلنا فی دعوتکم کمثل الذی یحاور عجماءَ أو ینادی صخرۃً صمّاءَ أو یکلّم المیّتین۔ یا حسرۃ وآہًا علی ہٰٓؤُلاء المتنصرین کیف یعرضون عن الحق الصریح، ویضطجعون ضِجْعۃَ المستریح، ویترکون ذیل الصبیح الملیح، ویمیلون إلی الشنیع القبیح، ویأبون اللّٰہ مغمطین۔ نبذوا أمرہ نَبْذَ الحذاء المرقّع، وکفروا بالکتاب الموقّع مجترئین۔ رسوائیوں کا نشانہ بناتے ہو اور ایک نصیحت دینے والے کی مخلصانہ نصیحت سے کنارہ کش اور مشتعل ہوکر گالیاں نکالتے ہو تمہیں کیا ہوگیا کہ تم ان باتوں سے متنبہ ہوکر نہیں ڈرتے اور تمہارے آنسو جاری نہیں ہوتے اور تمہارے بدن پر لرزہ نہیں پڑتا اور پشیمان ہوکر توبہ نہیں کرتے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہونی اور نادر باتیں تمہارے عقیدوں میں داخل ہیں اور تم نے اصل کو چھوڑ دیا اور زائید اور بے اصل باتوں پر جھک گئے اور پہلوں اور پچھلوں کی تم نے مخالفت کی۔ تم کیوں ایک بلانے والے کی آواز کو نہیں سنتے اور چرانے والے کے پیچھے نہیں چلتے بلکہ تم سانپوں کی طرح کاٹتے اور دوڑنے والے بھیڑیئے کی طرح حملہ کرتے ہو اور تم اپنے چلنے کے وقت نہ سنتے نہ بولتے نہ دیکھ سکتے اور تکبر اور غرور میں چلے جاتے ہو۔ اور تمہیں دعوت کرنے کے وقت ہماری مثال ایسی ہے جیسے کوئی گونگے سے بات کرے یا ایک پتھر سخت کو بلاوے یا مردوں سے بات کرے۔ ہائے ان کرسٹانوں پر افسوس ہے کہ وہ حق سے کنارہ کئے جاتے ہیں اور ایسے سو رہے ہیں جیسے کوئی بڑے آرام سے سوتا ہے اور خوبصورت عقائد کا دامن چھوڑتے اور مکر وہ عقیدوں کی طرف جھکے جاتے ہیں اور ناشکری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے حکم کو یوں پھینک دیا جیسے ایک پورانی پھٹی جوتی کو پھینک دیا جائے اور ایسی کتاب سے جس پر الٰہی نشان ہے بڑی شوخی سے انکار کر دیا ہے۔