وسیلۃ الفلاح والکذب من آثار الطلاح؛ وفی التزام الحق نباہۃ وفی اختیار الزور عاہۃ، فإیاکم وطرقَ الکذّابین۔ فأشار اللّٰہ فی ہذا أن علماء النصاری ہم الدجّالون المفسدون أعداء الحق وأہلہ۔ نسوا ظلمۃ الرمس فلا یذکرون ما ثَمَّ، وحبُّ الشہوات فیہم عَمَّ وتَمَّ وغاب أثر الدّین۔ وأُشرِبَ حسّی ونَبَّأَنی حدسی أنہم لا یمتنعون ولا ینتہون حتی یروا مثلَ سننِ اللّٰہ التی خلت من قبل، ویروا أبا غمرۃ، الذی یُضرِم فی الأحشاء الجمرۃَ، ویکونوا کجریحٍ نُوِّبَ متألمین۔ فحاصل الکلام أنہم الدجال المعہود وأنا المسیح الموعود۔ وہذا فیصلۃ اتفق علیہا القرآن والإنجیل، وأکّدہا الرب الجلیل، فما لکم لا تقبلون فیصلۃً اتفق علیہا حکمین* عدلین۔ أ تفرّون من الأمر الواضح وتَعرِضون عِرضکم نجات کا موجب اور جھوٹ تباہی کی علامت ہے اور حق کے اختیار کرنے میں نیک نامی اور جھوٹ کے اختیار کرنے میں آفت ہے سو تم کذابوں کا طریق چھوڑ دو۔ پس اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا کہ نصاریٰ کے علماء درحقیقت دجال اور مفسد ہیں اور حق اور حق پرستوں کے دشمن ہیں قبر کی تاریکی کو بھلا دیا سو وہ اس خوف کو جو اس جگہ ہے یاد نہیں کرتے اور نفسانی شہوتوں کی محبت ان میں پھیل گئی اور کمال تک پہنچ گئی اور دین کا نشان گم ہوگیا۔ اور میری دانش اور میری فراست یہ خبر دیتی ہے کہ یہ کرسٹان تو عیسائی فساد سے باز نہیں آئیں گے جب تک خدا تعالیٰ کے ان قوانین قدیمہ کو نہ دیکھ لیں جو پہلے گذر چکے ہیں اور جب تک ایسی بھوک کو نہ دیکھ لیں جو اندر کو جلاتی ہے اور جب تک ایسے درد ناک نہ ہو جائیں جیسا کہ کوئی حوادث کا مارا ہوتا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہی لوگ دجال معہود ہیں اور میں مسیح موعود ہوں اور یہ وہ فیصلہ ہے جس پر قرآن اور انجیل دونوں اتفاق رکھتے ہیں اور اس کو موکد طور پر خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے پس کیا وجہ کہ تم ایسے فیصلہ کو قبول نہیں کرتے جس پر دو عادل حاکموں نے اتفاق کیا ہے کیا تم ایک کھلے کھلے امر سے گریز کرتے اور اپنی آبرو کو