ہو الدجل کما لا یخفی علی المتبصرین۔
فلا شک أن قسّیسی ہذا الزمان دجّالون کذّابون یُہلکون عوامّ الناس من نفثاتِ فیہم، وکلِّ نوعِ
خداعٍ فیہم۔ الخَتْر یلمع من جبہتم، والتلبیس من صورتہم، ولا نجد فی مکایدہم ودجلہم نظیرہم فی تصاریف الزمان، ولا مثیلَہم فی نوع الإنسان۔ یقتحمون الأخطار لیُضلّوا الدیار، ویبذلون المال للذی رغب إلی
دینہم ومال، وتجدہم فی کل تلبیس وسیع المورد، وفی کل خداع مبسوطۃ الید، وتجدہم فی کل کید ماہرین۔ وکما أنّ المسیح یسمّیہم الدجالین فاعلی الظلم کذلک القرآن سماہم دجالین، وقال33333333 ۱ یعنی
لم لا تتجافون عن الاشتطاط فی تحریف کلمات اللّٰہ وأنتم تعلمون أن الصدق
نام دجالیت ہے جیسا کہ سمجھ دار لوگوں پر پوشیدہ نہیں۔
پس کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ کے پادری دجال کذاب ہیں جو
عام لوگوں کو
اپنے منہ کی پھونکوں اور اپنے فریبوں سے ہلاک کر رہے ہیں فریب ان کی پیشانیوں پر چمکتا ہے
اور حق پوشی ان کی صورت سے ظاہر ہے اور ہم ان کے فریبوں اور ان کی دجالیت
میں اگلے پچھلے زمانہ میں کوئی
نظیر نہیں پاتے اور نہ نوع انسان میں ان کی مانند دیکھتے ہیں مشکل جگہوں میں گمراہ کرنے
کے لئے دھس جاتے ہیں اور بہت سے مال ایک ایسے آدمی پر خرچ
کر دیتے ہیں جو ان کے دین کی طرف رغبت
کرے اور ہر ایک فریب میں ان کا ایک بڑا وسیع گھاٹ ہے اور ہریک مکر میں بڑے لمبے ہاتھ ہیں اور وہ
ہریک منصوبہ میں ماہر ہیں۔ اور جیسا کہ مسیح
علیہ السلام نے ان کا نام دجال رکھا ہے اسی طرح قرآن بھی ان کو دجال
کے نام سے موسوم کرتا ہے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے اے اہل کتاب کیوں باطل کے ساتھ حق کو
مخلوط کرتے ہو اور تم
دانستہ حق کو چھپا رہے ہو۔ یعنی کیوں تم اس بات سے
کنارہ نہیں کرتے کہ الٰہی کلمات کی تحریف میں حد سے زیادہ بڑھے جاتے ہو اور تم جانتے ہو کہ سچائی