بفوج من الشیاطین، فلیتذکر من کان من المتذکرین۔ کذٰلک خُلِّصوا بعد الألف وتناسَوا ذمام اللّٰہ ونکثوا عہودہ واحفظوا ربہم مجترئین۔ وجمعوا کل جہدہم لإضلال الناس، واستجدّوا المکائد کالخنّاس، وجاء وا بسحر مبین۔ وأضاعوا التقویٰ والعمل الصالح، واتّکأوا علیؔ کَفّارۃ لا أصل لہا، واتبعوا کل إثم واستعذبوا کل عذاب، وکذّبوا المقدسین۔ وتجنَّوا وقالوا نحن عباد المسیح وأحباؤہ، وہیہات أن تُراجع الفاسقین مِقَۃُ الصالحین۔ وقد سمعتَ آنفًا أن المسیح سماہم فاعلی الظلم، وسمعت أن الظلم والدجل شیء واحد، وقد قال اللّٰہ تعالٰی 3 ۱؂، أی لم تنقص، وإطلاق الظلم علی النقص الذی کان فی غیر محلہ أو الزیادۃ التی لیست فی موضعہا أمرٌ شائع متعارف فی القوم، وہذا شیاطین کی ایک فوج کے ساتھ نکلے گا سو اسی طرح وہ ہزار برس کے بعد نکلے۔ اور خدا کی حرمت اور اس کے عہد کو بھلا دیا اور کل عہدوں کو توڑ دیا اور شوخیاں کرکے اپنے رب کو غصہ دلایا اور اپنی تمام کوششوں کو لوگوں کے گمراہ کرنے میں اکٹھا کر دیا اور تمام تدابیر کو کام میں لائے اور تقویٰ اور نیک عمل کو ضائع کیا اور ایسے کفارہ پر تکیہ کر بیٹھے جس کی کچھ بھی اصل نہیں اور ہر ایک گناہ کی انہوں نے پیروی کی اور ہر یک عذاب کو شیریں سمجھ لیا اور پاک لوگوں کی تکذیب کی اور کوشش کی جو ان کے عیب ڈھونڈیں اور کہا کہ ہم مسیح کے بندے اور اس کے پیارے ہیں مگر یہ کہاں ہوسکتا ہے کہ ایسے فاسقوں کے ساتھ نیک بختوں کا میل جول ہو۔اور تو ابھی سن چکا ہے کہ مسیح نے ان کا نام ظلم کے مرتکب اور بدکار رکھا ہے اور تو نے یہ بھی سن لیا ہے کہ ظلم اور دجالیت ایک ہی چیز ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے کہ اس باغ نے اپنا پورا پھل دیا اور اس میں سے کچھ کم نہ کیا اور لفظ ظلم کا ایسی کمی پر اطلاق کرنا غیر محل ہو یا ایسی زیادتی پر جو بے موقع ہے ایک ایسا امر ہے جو قوم میں شائع متعارف ہے اور اسی کا