فی ذٰلک أنؔ الأولین ما کانوا مجتہدین ساعین لإضلال الخَلق کمثل الآخرین، بل ما کانوا علیہا قادرین۔ وکانوا کرجل مُصفَّد فی
السلاسل ومقرَّن فی الحبال وکالمسجونین۔ وأمّا الذین جاء وا بعدہم فی زماننا ہذا ففاقوا أسلافہم فی الدجل والکذب، ووضَع اللّٰہ عنہم أیاصرہم وأغلالہم، ونجّاہم عن السلاسل التی کانت فی أرجلہم ابتلاءً من عندہ،
وکان قدرًا مقضیًّا من رب العالمین۔ وکان قدرُ اللّٰہ أن یبرزوا بعد ألف سنۃ من الہجرۃ حتی ظہروا فی ہذہ الأیام کغُولٍ خُلِّصَ وأُخرِجَ من السجن، ثم استوی علی راحلتہ لاویًا إلی زافرتہ وحزبٍ خُلقوا علی
شاکلتہ، وکانوا لقبولہ مستعدّین۔ ثم أشاعوا کیف شاء وا من أنواع الکفر وأصناف الوسواس وکانوا قوما متموّلین۔ وہذا ہو الذی کُتِبَ فی الصحف الأولی۔ أن الثعبان الذی ہو الدجّال یلبث فی السجن إلی ألف سنۃ ثم
یخرج
اس میں بھید یہ ہے کہ پہلے نصاریٰ خلق اللہ کے گمراہ کرنے کی ایسی سخت کوششیں نہیں کرتے تھے جیسی پچھلوں نے
کیں بلکہ وہ ان کوششوں پر قادر نہیں تھے اور ایسے تھے
جیسے کوئی زنجیروں میں
جکڑا ہوا اور قیدی ہو۔ مگر وہ لوگ جو ان کے بعد ہمارے اس زمانہ میں آئے وہ
دجالیت میں اپنے پہلے بزرگوں سے بڑھ گئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کا امتحان
کرنے کے لئے ان کی
ہتھ کڑیوں اور ان کے طوق گردنوں کو ان سے الگ کر دیا اور ان زنجیروں سے ان کو نجات دے دی
جو ان کے پیروں میں تھے اور یہی ابتداء سے مقدر تھا اور ایک ہزار
ہجری گذرنے کے بعد ان کا خروج شروع ہوا
یہاں تک کہ ان دنوں میں وہ ایک ایسے دیو کی طرح ظاہر ہوئے جو زندان سے نکلا اور
اپنی سواری پر سوار ہوا اور اپنے ان عزیزوں اور اس گروہ کی
طرف رخ کر لیا جو اس کے مادہ کے
موافق اور اس کے قبول کرنے کے لئے مستعد تھے۔ پھر انہوں نے جس طرح چاہا کفروں کو شائع کیا اور طرح طرح کے
وساوس پھیلائے کیونکہ وہ ایک
مالدار قوم ہے۔ اور یہ وہی پیشگوئی ہے جو پہلی کتابوں میں لکھی گئی ہے
کہ وہ اژدہا جو دجال ہے ہزار برس تک قید رہے گا اور پھر ہزار برس کے بعد