من ہذا الجنود، فاخسأوا یا معشر الظالمین الکافرین۔ وأشار إلی أنکم لبَستم الحق بالباطل وترکتم أمرہ وکنتم قومًا دجّالین۔ وأنت تعلم أن
حقیقۃ الظلم وضعُ الشیء فی غیر موضعہ عمدًا وبالإرادۃ لینتقب وجہُ المحجّۃ ویُسَدّ طریق الاستفادۃ ویلتبس الأمر علی السالکین۔ فالظالم ہو الذی یحلّ محلّ المحرّفین ویبدّل العبارات کالخائنین، ویجترء علی
الزیادۃ فی موضع التقلیل والتقلیل فی موضع الزیادۃ کَیْفًا وکَمًّا، أو ینقل الکلمات من معنی إلی معنی ظلمًا وزورًا مِن غیر وجودِ قرینۃٍ صارفۃٍ إلیہ، ثم یأخذ یدعو الناسَ إلی مفتریاتہ کالخادعین۔ وما معنی الدجل
والدجالۃ إلا ہذا، فلیفکّر من کان من المفکّرین۔
وأُلقِیَ فی روعی أن المسیح سمّی الآخرین من النصاری الدجّالین لا الأولین، وإن کان الأولون أیضًا داخلین فی الضالّین المحرّفین۔ والسرّ
سو اے ظالمو
کافرو دور ہو۔ اور اس بات کی طرف اشارہ
کیا کہ تم نے حق کو باطل کے نیچے چھپا دیا اور تم ایک دجال قوم ہو اور تجھے معلوم ہو کہ
ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ ایک شئے اپنے موقعہ سے اٹھا کر
عمداً غیر محل پر رکھی جائے تا راہ چھپ جاوے
اور استفادہ کا طریق بند ہو جاوے اور چلنے والوں پر بات ملتبس ہو جاوے۔ پس ظالم
اس کو کہیں گے جو محرفوں کا کام کرے اور خیانت پیشہ
لوگوں کی طرح عبارتوں کو بدلا دے اور جرأت کرکے
کم کی جگہ زیادہ کرے اور زیادہ کی جگہ کم کر دیوے کیا کیفیت کی رو سے اور کیا کمیت کی رو سے
اور محض ظلم اور جھوٹ کی راہ
سے کلموں کو ایک معنے سے دوسرے معنوں کی طرف لے جائے
حالانکہ اس کے فعل کے لئے کوئی قرینہ مددگار نہ ہو اور پھر اس بناء پر دھوکا دینے والوں کی طرح لوگوں کو اپنے مفتریات
کی
طرف بلانا شروع کرے او ر دجالیت کے معنے بجز اس کے کچھ نہیں پس جو شخص فکر کر سکتا ہے اس میں فکر کرے۔
اور میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح نے آخری زمانہ کے
نصاریٰ کا نام دجال رکھا
اور ایسا نام پہلوں کا نہیں رکھا اگرچہ پہلے بھی گمراہوں میں داخل تھے اور کتابوں کی تحریف کرنے والے تھے۔ سو