إلی ہذا الوقت، وعجزوا عن فَضِّ سرِّک وکشفِ دعواک وإدراکِ عمقک، وأَکلتہم کالخادعین۔ یا حسرۃ علیہم لِم یضیّعون أموالہم علی أمثالک، ولم لا یرجعون إلی الیقظۃ بعد التجارب المؤلمۃ، ولم لا یعرفون البطّالین؟ وأما قولک أن قسّیسی ہذا الزمان لیسوا دجّالًا معہودًا، فہذا دجلک الأکبر۔ وؔ سألت عنی دلیلا علیہ فاعلم أن ہذا لیس قولی بل قالہ المسیح من قبلی، فانظر فی إنجیل لوقا فی الإصحاح الثالث* من آیۃ ۲۴ إلی ۳۰، فستجد ما قلنا بمزایاہ وہو ہذا یا عدو الطیبین۔ ’’فقال لہم اجتہِدوا أن تدخلوا من الباب الضیق، فإنی أقول لکم إن کثیرین سیطلبون أن یدخلوا ولا یقدرون مِن بعدما یکون رب البیت قد قام وأغلق البابَ۔ وابتدأتم تقِفون خارجًا وتقرعون الباب قائلین یا رب، یارب‘ افتحْ لنا۔ یجیب ویقول لکم لا أعرفکم مِن أین أنتم۔ حینئذ تبتدء ون نقولون تیرے بھید کے پہچاننے اور تیری تہ تک پہنچنے سے قاصر رہے اور تو نے دھوکا دینے والوں کی طرح ان کو کھا لیا۔ ان پر افسوس کہ وہ کیوں تیرے جیسے لوگوں پر اپنے مال ضائع کر رہے ہیں اور کیوں درد ناک تجربوں کے بعد بیدار نہیں ہوتے اور کیوں بطالوں کو نہیں شناخت کرتے۔ اور تیرا یہ قول کہ اس زمانہ کے پادری دجال نہیں ہیں تو یہ تیری دجالیت ہے اور تو نے مجھ سے اس دعویٰ کی دلیل پوچھی تھی سو تجھے معلوم ہو کہ یہ فقط میرا ہی قول نہیں بلکہ مجھ سے پہلے مسیح نے بھی یہی کہا ہے سو تو انجیل لوقا تیسرے* باب چوبیس آیت میں غور کر کہ یہی قول ہمارا مع شئے زائد پائے گا اور وہ یہ ہے اے پاکوں کے دشمن۔ پس مسیح نے ان سے یعنی حواریوں سے کہا کہ کوشش کرو تا تنگ دروازے سے داخل ہو کیونکہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ بہتیرے چاہیں گے کہ داخل ہوں پر داخل نہیں ہو سکیں گے اس کے بعد گھر کا مالک اٹھا اور دروازہ بند کر لیا اور تم نے دروازہ کے باہر کھڑے ہوکر یہ بات کہتے ہوئے دروازہ کو کھٹکھٹانا شروع کیا کہ اے ہمارے مالک اے ہمارے مالک ہمارے لئے دروازہ کھول وہ جواب دے گا اور کہے گا کہ میں نہیں پہچانتا کہ تم کہاں سے ہو اس وقت تم یہ کہنا شروع کرو گے کہ ہم نے