منفردا، فنحن فی ہذہ الأوان کغرؔ یب فی خانٍ، لا کشَغِبٍ فی حمایۃ إخوان۔ لا نرید الریاسۃ بل آثرنا الخصاصۃ، ونبذنا فروۃَ إمارۃ،
ورضینا بعباء ۃِ فقرٍ وما بالَیْنا طَعْنَ نُظّارۃٍ، ولا لومَ اللا ئمین۔ فلا تُبادِرْ یا لاہِسَ کأسِ قسیسین إلی ظن السوء ، ولا تنفُضْ مِذْرَوَیْک، فإنّ أمرنا متبین واضح ولیس شیء فی یدیک، ولست من الحاکمین۔ فإن کنت تشتاق
أن تستقری طرق النمیمۃ، فاعلم أنک خائب ولا یحصل لک شیء من غیر ظہور سِیَرِک الذمیمۃ، ولا تقدر أن تُخفی ما أبداہ ربنا، ولا تضرّ مَن حفظہ اللّٰہ وہو خیرالحافظین۔ فأَعرِضْ عنہا واشتغِلْ بنضرۃ دنیاک
وخضرتہا، واصطبِحْ واغتبِقْ وافرَحْ علی جیفتہا، ولا تدخُلْ فیما لستَ أہلہ، ولا تغضب ولا تشتعل، فإن مقت اللّٰہ أکبر من مقتک، وإن نارہ تحرق الظالمین۔
والعجب أن أکابر المسیحیین خُدعوا فیک، وما
عرفوک حق المعرفۃ
اکیلا چھوڑا جاتا ہے سو ہم اس وقت ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جو سرائے میں اترا ہوا ہو نہ ایسے شخص کی طرح
جو فساد کرنے والا اور اپنے بھائیوں کی حمایت سے
مفسدہ پرداز ہو ہم کسی ریاست کو نہیں چاہتے بلکہ درویشی اختیار
کی اور ہم نے ریاست کی پوستین کو پھینک دیا اور فقیرانہ گودڑی اختیار کر لی اور دیکھنے والوں کے طعن اور ملامت کی کچھ
بھی
پرواہ نہ کی سو اے پادریوں کے پیالے چاٹنے والے بدظنی کی طرف جلدی مت کر اور اپنی ُ سرین مت ہلا کیونکہ ہمارا حال
روشن ہے اور کوئی بات تیرے اختیار میں نہیں اور نہ تو حاکم ہے۔
اور اگر تجھے یہی شوق ہے کہ نکتہ چینی کی راہوں
کو ڈھونڈے پس جان رکھ کہ یہ مطلب تیرا پورا نہیں ہوگا اور تو نامراد رہے گا اگر ہوگا تویہی کہ تیری بُری خصلتیں ظاہر ہوں گی اور تو اس پر
قادر نہیں ہوسکے گا کہ جس چیز کو خدا نے ظاہر کیا اس کو چھپاوے اور جس کو خدا نگاہ رکھے تو اس کو ضرر نہیں پہنچا سکتا اور خدا سب محافظوں سے بہتر ہے۔ پس تو ان باتوں سے کنارہ کر
اور اپنی دنیا کی تازگی اورسبزہ میں مشغول رہ اور دن رات شراب پی اور
دنیا کی ُ مردار پر خوشی کر اور ان باتوں میں دخل مت دے جن کی لیاقت تجھ میں نہیں اور غضب ناک نہ ہو اور مت بھڑک
کیونکہ خدا تعالٰے کا غضب تیرے غضب سے زیادہ ہے اور اس کی آگ ظالموں کو جلا دیتی ہے۔
اور تعجب کہ بڑے پادریوں نے تجھ میں دھوکا کھایا اور اس وقت تک تجھ کو نہیں پہچانا جیسا کہ حق
پہچاننے کا ہے اور