وہو خیر المؤیّدین۔ وألہمَنا أن الحرب حرب روحانی بنظر روحانی۔ وأعجبنی أنہم یقرّون أن عیسی لا یقاتل یأجوج ومأجوج، بل یدعو علیہم عند اشتداد المصائب وہجوم الأعداء کالسہم الصائب، وکذلک یقرأون لفظ النظر فی کتب الأحادیث ثم ینسونہ ولا یتدبرون کالعاقلین۔ ختم اللّٰہ علی قلوبہم، فلا یفہمون دقیقۃ من دقائق المعرفۃ، ولا نکتۃ من نکات الحکمۃ، بل نری أن ذہنہم مزمہرّ، ودَجْنُہ مکفہرّ، فلا یستشفّون لآلئَ الحقائق، ولا یُمعِنون فی الدقائق، ویسبَحون علی سطح الألفاظ، ولیسوا فی بحر المعانی غوّاصین۔ ومن یفہّم رجلًا ما فہّمہ اللّٰہُ؟ ومن لم یہدہ اللّٰہ فکیف یکون من المہتدین؟ ہذہ ہی العقیدۃ التی أشہرناہا فی کتبنا غیر مرّۃ، ولأجل ذلک کُفّرنا وأُوذینا وکُذّبنا وأُفْردنا کالذی یُترک فی البوادی والفلوات خیر المؤیدین نے ہم کو مدد دی اور ہمارے رب نے ہمیں الہام دیا کہ مسیح موعود کی لڑائیاں روحانی لڑائیاں ہیں جو روحانی نظر کے ساتھ ہوں گی اور تعجب کہ یہ لوگ پڑھتے ہیں کہ جو عیسیٰ یاجوج ماجوج سے نہیں لڑے گا بلکہ سخت مصیبتوں کے وقت بددعا کرے گا اور نیز وہ لفظ نظر کا کتب احادیث میں پڑھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں اور عاقلوں کی طرح نہیں سوچتے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی پس وہ معرفت کے دقیقوں میں سے کسی دقیقہ کواور حکمت کے نکتوں میں سے کسی نکتہ کو بھی نہیں سمجھتے بلکہ ذہن ان کا بہت ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور بادل اس ذہن کا تہ بتہ ہے پس وہ حقیقت کے موتیوں کو عمیق نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور الفاظ کی سطح پر تیرتے ہیں اور معانی کے دریا میں غوطہ نہیں مار سکتے اور ایسے آدمی کو کون سمجھائے جس کو خدا نے نہیں سمجھایا اور جس کو خدا نے ہدایت نہیں دی وہ کیونکر ہدایت یاب ہو جائے۔ یہ وہی عقیدہ ہے جس کو ہم نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ ذکر کیا ہے اور انہی امور کے لئے ہم کافر ٹھہرائے گئے اور دکھ دئے گئے اور جھٹلائے گئے اور ہم ایسے اکیلے چھوڑے گئے جیسا کہ کوئی جنگل میں