کثیرۃ قنطارًا علی القنطار، ثم یجعل البطالویَّ وإخوانہ من المتمولین۔ وأما نحن فلا نعتقد کذلک، بل نعلم أنہم أخطأوا فی ہذہ الآراء ،
وأجنّہم اللیل وبعدوا عن الضیاء ، فما فہموا وما مسّوا مسلک المتبصرین، وما سُقوا من المعارف النبویّۃ والأسرار الإلٰہیۃ، بل أکلوا فُضلاتِ قومٍ ضلوا من قبل ونبذوا کتاب اللّٰہ وراء ظہورہم ورضوا بأقوال
الختّارین۔ وکان سرّ ہذہ العقیدؔ ۃ من أدق المسائل وأصعبہا، فما فہِمہ آراءٌ سطحیۃ وعقول ناقصۃ، واختاروا طرقًا دون ذلک مستعجلین۔ فتمَّ ما جاء فی فَیْجٍ أعوَجَ مِن أصدقِ الصادقین، وإن فی ہذا بُرہانًا
للمتفکرین۔ ثم تفضّلَ اللّٰہ علینا وکشف ہذا السرّ فضلًا ورحما وہو أرحم الراحمین۔ یرقّی من یشاء ، ویحطّ من یشاء ، ویجعل من یشاء من العارفین۔ وعلِمنا بتعلیمہ وفہِمنا بتفہیمہ وأُیِّدْنا بتکریمہ
بٹالوی اور اس
کے بھائیوں کو مالدار کر دیوے
مگر ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے بلکہ ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی راؤں میں خطا کی اور ایک رات ان پر پڑ گئی
اور روشنی سے دور جا پڑے پس انہوں نے
کچھ نہ سمجھا اور سمجھنے والوں کے مسلک کو چھؤا بھی نہیں
اور انہوں نے معارف نبویہ اور اسرار الٰہیہ میں سے کچھ بھی نہیں پیا بلکہ انہوں نے ان لوگوں کا فضلہ کھایا جو پہلے
ان سے
راہ کو بھول چکے تھے اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو انہوں نے پس پشت پھینک دیا اور ان لوگوں کی باتوں پر راضی
ہوگئے جو دھوکا دینے والے تھے اور اس عقیدہ کا بھید بہت باریک اور مشکل مسائل
میں سے تھا اس لئے موٹی سمجھ
اور ناقص عقل والے اس کو سمجھ نہ سکے اور اور راہیں جلدی سے اختیار کر لیں۔ سو وہ
پیشگوئی پوری ہوئی جو فیج اعوج کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمائی تھی اور وہ اصدق الصادقین ہے
اور فکر کرنے والوں کے لئے اس میں ایک دلیل ہے پھر خدا تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور فضل اور رحم سے یہ بھید ہم پر کھول دیا اور وہ ارحم
الراحمین ہے جس کو چاہتا ہے اوپر لے جاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نیچے پھینکتا ہے اور جس کو چاہتا
ہے عارفوں میں داخل کرتا ہے سو ہم نے اس کی تعلیم سے معلوم کیا اور اس کے سمجھانے
سے سمجھے اور اس