شغل مِن غیر سفکؔ الدماء ، ویکون حریصا علی قتل نفس ولو کان خنزیرا، ویأخذ السیف البتّار قبل أن یتمّ حجّتہ علی المنکرین، فنحن لسنا منہم ولا نعرف ذلک المسیح ولا نعلم ولا ندری أثرا من تلک الأباطیل فی کتاب اللّٰہ المبین۔ فلا نقبل ہذہ العقیدۃ أبدًا، ولسنا من الذین یقرّون بہ مقلّدین کالعمین۔ فالحاصل أنہ لیس من عقائدنا، بل إنما ہو من عقائد شیخ بطّالوی صاحبِ الإشاعۃ مضلِّ الجماعۃ، أعنی محمد حسین وأمثالہ الذین ہُمْ فُلّاح تلک الزراعۃ۔ فالملخص أن ہذا المسلک من مساعیہم التی یسعون، وآراۂم التی ترون، وأنہم قد رسوا علیہ ولیسوا بالمنتہین الراجعین، بل یخبرون عنہ علی المنابر ویذکرونہ مُتباشِرین۔ ومِن أعظم مُنْیتہم النفسانیۃ أن یجیء مسیحہم الموہوم کالملیک الجبّار، ویقتل کلَّ من فی الأرض من الکفار، ویجمع غنائم خونریزی کے اس کا کوئی اور شغل نہ ہوگا اور وہ قتل کرنے پر بڑا حریص ہوگا اگرچہ خنزیر ہی ہو اور قبل اس کے جو اپنی حجت منکروں پر پوری کرے آتے ہی تلوار پکڑ لے گا۔ سو ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں اور ہم ایسے مسیح کو نہیں پہچانتے اور ہم خدا تعالیٰ کی کلام میں ان عقائد کا کچھ بھی نشان نہیں پاتے اور ہم ایسے نہیں کہ ان باتوں کو ایک اندھے مقلد کی طرح مان لیں۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہ باتیں ہمارے عقائد میں سے نہیں ہیں بلکہ یہ شیخ بٹالوی کے عقائد ہیں جو صاحب اشاعۃ اور مضل جماعت ہے اور ایسا ہی اس کے ہم خیالوں کا جو اس کھیتی کے بونے والے ہیں یہی عقیدہ ہے پس خلاصہ کلام یہ کہ یہ انہیں کا مسلک ہے جس پر وہ چل رہے ہیں اور یہ انہیں کی رائیں ہیں جو تم دیکھتے ہو اور وہ ان خیالات پر خوب جمے ہوئے ہیں اور باز آنے والے اور رجوع کرنے والے نہیں ہیں بلکہ منبروں پر چڑھ چڑھ کر یہ خبریں بتلاتے ہیں اور ان کو یاد کرکے ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے ہیں اور ان کی نفسانی خواہشوں میں سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ان کا خیالی مسیح دنیا میں آوے اور تمام کافروں کو قتل کرے اور پھر بہت سے لوٹ کے مالوں سے