ہی الحربۃ السماویۃ التی ما صنعہا أیدی الإنسان، بل أعطیت من ید اللّٰہ الرحمن، ونزلت من السماء لا من أعمال أہل الأرضین۔ فالحاصل أن اعتقادنا ہو ہٰذا، لا کما فہِم الواشی الغبیّ والنمّام الدنیّ، فإنہ خطأٌ فاحش عندنا، ونخطّئُ قائلَ تلک الأقوال، وقد أخطأ من قال ووقع فی ضلال مبین۔ فالحق الذی أرانا الحقُّ الحکیمُ وأنبأنا اللطیف العلیم، ہو أن حربۃ المسیح الموعود سماویۃ لا أرضیۃ، ومحارباتہ کلہا بأنظار روحانیۃ، لا بأسلحۃ جسمانیۃ، وہو یقتل الأعداء بعقد النظر والہمۃ، أعنی بتصرف الباطن وإتمام الحُجّۃ، لا بالسہام والرماح والمَشْرَفیّۃ، ولہ ملکوت السماء لا ملکوت الأرضین۔ وأمّا الذین ینتظرون مسیحًا یأتی بالجنود ویخرج کالأسود، ویقتل کل من لم یؤمن من الکافرین، وینزل کصاعقۃ محرقۃ من السماء ، ولا یکون لہ یہی آسمانی حربہ ہے جس کو انسان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا بلکہ رحمان کے ہاتھوں سے ملا ہے۔ اور آسمان سے نازل ہوا ہے نہ زمین کی کارستانیوں سے پس خلاصہ کلام یہ ہے جو ہمارا اعتقاد یہی ہے جو ہم نے ذکر کر دیا نہ جیسا کہ اس نکتہ چین کند ذہن اور سفلہ مزاج نے سمجھا اور وہ ہمارے نزدیک صریح غلطی ہے اور ہم ایسے قائل کا تخطیہ کرتے ہیں بیشک خطا کی جس نے ایسا کہا اور صریح ضلالت میں پڑ گیا۔ پس وہ حق جو ہم کو حکیم مطلق نے دکھلایا اور لطیف علیم نے بتلایا وہ یہی ہے کہ مسیح موعود کا حربہ آسمانی ہے نہ زمینی اور لڑائیاں اس کی روحانی نظروں کے ساتھ ہیں نہ جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ اور وہ دشمنوں کو نظر اور ہمت سے قتل کرے گا یعنی تصرف باطن اور اتمام حجت کے ساتھ نہ تیر اور نیزہ اور تلوار سے اور اس کی آسمانی بادشاہت ہے نہ زمینی۔ اور وہ لوگ جو ایک مسیح کی انتظار کرتے ہیں جو لشکروں کے ساتھ آئے گا اور ہریک کافر کو جو ایمان نہ لاوے قتل کر دے گا اور آسمان سے ایک جلانے والی بجلی کی طرح نازل ہوگا اور بجز