من السماء ۔ مبتلاۃ بأمراض لا بمرض واحد یخالف بیّنات القرآن، ویکذّب أمر ختم النبوۃ، ویباین محاورات القوم، ویخالف الآثار التی
صرحت فیہا موت المسیح۔ فتَفکّروا أیہا الناس إن کنتم من المتفکرین۔
وأما الشق الثانی أعنی محاربات المسیح الموعود بعد النزول، کما ہو زعم بعض الناس الذی ما کان إلا کالغبی الجہول، فہو لیس مذہبنا،
بل عندنا ہو خیال باطل لا یصلح للقبول، وبعید عن الحق والیقین وداخلٌ فی نمط الفضول۔ وکفی لبطلانہ الحدیثُ الذی موجود فی البخاری۔ أعنیؔ یضع الحربَ، یعنی لا یقاتل المسیحُ الموعود ولا یحارب، بل
یفعل کل ما یفعل بالنظر والہمۃ، ویجعل اللّٰہُ فی نظرہ تأثیرات عجیبۃ، وفی أنفاسہ برکات غریبۃ، ویجعل فی فہمہ وعقلہ قوۃ السیف والسنان، ویعطی لہ بیانا مملُوًّا من البرہان، وحججًا قاطعۃ لِعُذْرات أہل
الطغیان۔ فہذہ
بیماریاں لگی ہوئی ہیں قرآن کی بینات کا مخالف ہے
ختم نبوت کے امر کی تکذیب کرتا ہے اور قوم عرب کے محاورات کے مغائر پڑا ہے اور ان احادیث کے
برعکس ہے جن میں
حضرت عیسیٰ کی موت کی تصریح ہے پس اے لوگو فکر کرو اگر فکر کر سکتے ہو۔
اور دوسرا شق یعنی یہ کہ مسیح موعود اترنے کے بعد لڑائیاں کرے گا جیسا کہ بعض جہال کا خیال ہے پس یہ
ہمارا مذہب نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ خیال باطل اور فضول ہے جو لائق قبول نہیں اور حق اور یقین سے بعید ہے اور اس کے باطل کرنے کے لئے وہ حدیث کافی ہے جو صحیح بخاری میں لکھی ہے
یعنی قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یضع الحرب جس کے یہ معنے ہیں کہ مسیح موعود کفار سے نہیں لڑے گا اور نہ جنگ کرے گا بلکہ جو کچھ کرے گا اپنی نظر اور ہمت سے کرے گا اور خدا
اس کی نظر میں عجیب عجیب تاثیرات رکھ دے گا اور اس کے فہم اور عقل کو تلوار اور نیزہ کی قوت دے گا اور اس کو دلائل سے بھرا ہوا بیان عطا کرے گا اور ایسی حجتیں اس کو سکھلائے گا جو
اہل طغیان کا قطع عذرات کریں پس