أن الإماتۃ أمر ثابت دائم داخل فی سنن اللّٰہ القدیمۃ، وما من رسول إلا تُوُفّی وقد خلتْ من قبل عیسی الرسلُ۔ فإذا تعارض لفظ التوفی ولفظ النزول۔ فإن سلّمنا وفرضنا صحۃ الحدیث فلا بد لنا أن نؤوّل لفظ النزول، فإنہ لیس بموضوع لنزول رجل من السماء ، بل وُضع لنزول مسافر من أرض بأرض، فما کان لنا أن نترک معنی وُضع لہ ہذا اللفظ فی لسان العرب ونردّ بیّناتِ القرآن۔ وما نجد ذکر السماء فی حدیث صحیح، وما نجد نظیر النزول فی أمم أولی*، بل یثبت خلافہ فی قصۃ یوحنا۔ فلا شک أن ہذہ العقیدۃ۔ أعنی عقیدۃ نزول المسیح مارنا ایک امر ثابت دائم الوقوع اور خدا تعالیٰ کی قدیم سنتوں میں داخل ہے اور کوئی نبی ایسا نہیں جو فوت نہ ہوا ہو اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو نبی آئے وہ فوت ہو چکے ہیں اور جبکہ لفظ نزول اور لفظ توفی میں معارضہ واقع ہوا پس اگر ہم حدیث کی صحت کو قبول کر لیں تاہم ہمارے لئے ضروری ہے کہ نزول کے لفظ کی تاویل کریں کیونکہ وہ دراصل آسمان سے اترنے کے معنوں کے لئے موضوع نہیں ہے بلکہ وہ تو مسافروں کے نزول کے لئے وضع کیا گیا ہے سو یہ تو ہم سے نہیں ہوسکتا کہ اصل موضوع لہ کو چھوڑ دیں اور قرآن کی بینات کو رد کریں اور ہم کسی حدیث صحیح میں آسمان کا لفظ بھی نہیں پاتے اور ہم اس نزول کی نظیر پہلی امتوں میں بھی نہیں پاتے بلکہ قصہ یوحنا میں اس کے خلاف پاتے ہیں پس کچھ شک نہیں کہ اس عقیدہ کو نہ ایک بیماری بلکہ کئی (الفائدۃ)قال اللّٰہ تعالٰی 3۔3 ۱؂ ولٰکناقرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہلی کتابوں یعنی تورات اور صحف ابراہیم میں شواہد تعلیم قرآن موجود ہیں مگر لا نجد ذکر صعود عیسٰی و ذکر نزولہ فی التورٰۃ ولا مثالا یشابھہ و ان التوراۃ ہم تورات میں حضرت عیسیٰ کے صعود اور نزول کا کچھ نشان نہیں پاتے اور نہ اس کی کوئی مثال پاتے ہیں حالانکہامام لذکر الامثلۃ کلھا ولاجل ذٰلک سماہ اللّٰہ اماما فی کتابٍ مبین۔ منہ تورات تمام مثالوں کے لئے امام ہے اِسی لئے خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں اس کا نام امام رکھا ہے۔